بین الاقوامی خبریں

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ریاض میٹرو پروجیکٹ کا افتتاح کر دیا

مختلف شعبوں میں 3 لاکھ کے قریب سعودیوں کو روزگار کی فراہمی

ریاض،28نومبر (ایجنسیز) سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بدھ 27 نومبر 2024 کو ریاض میٹرو پروجیکٹ کا افتتاح کر دیا۔میٹرو سروس سے ریاض کے ٹریفک ازدحام میں کافی حد تک بہتری آنے کی امید ہے۔سعودی خبر رساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق افتتاح سے قبل شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ریاض میٹرو کے حوالے سے ویڈیو دکھائی گئی جس میں بتایا گیا تھا میٹرو سروس ایک عظیم منصوبہ تھا جو اس دورِ حکومت میں مکمل ہوا۔ریاض میٹرو کے 6 ٹریکس ہیں جن کی مجموعی

لمبائی 176 کلومیٹر ہے جبکہ سٹیشنز کی تعداد 85 ہے جن میں 4 مرکزی اسٹیشنزشامل ہیں۔
اس موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی بے مثال معاونت اور سرپرستی سے میٹرو سروس جو کل تک ایک منصوبہ تھا آج حقیقت میں ہمارے سامنے ہے، یہ سروس اہل ریاض اور یہاں آنے والوں کے لیے مثالی سہولت فراہم کرے گی۔واضح رہے کہ ریاض میٹرو پہلے مرحلے میں تین روٹس کے لیے سروس شروع کی جا رہی ہے۔بعدازاں دسمبر کے وسط تک مزید تین روٹس کے لیے سروس شروع کردی جائے گی۔الاقتصادیہ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے پہلے مرحلے میں العروبہ سے البطحا اور کنگ خالد ایئرپورٹ سے رنگ روڈ عبدالرحمان بن عوف اور شیخ حسن بن حسین تک ہو گا جو مکمل گنجائش کے ساتھ شروع ہو گا۔

میٹرو سروس کا دوسرا مرحلہ جس کا آغاز دسمبر کے وسط میں کیا جائے گا۔ یہ روٹ شاہ عبداللہ روڈ سے شاہ عبدالعزیز سٹی تک مسافروس کو سفر کی سہولت فراہم کرے گا۔واضح رہے کہ اپریل 2012 میں سعودی کابینہ نے ریاض میں ٹریفک کے رش کوکنٹرول کرنے کے لیے میٹرو منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے بعد منصوبے پر کام شروع کردیا گیا تھا۔سعودی وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود آبادی انجینئر احمد الراحجی کا کہنا ہے’مختلف شعبوں میں 3 لاکھ کے قریب سعودی مرد و خواتین کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔اخبار 24 کے مطابق بجٹ کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا’جن شعبوں میں سعودائزیشن کا اعلان کیا گیا تھا ان میں فارمیسی، ایکسرے ٹیکنیشن، اکاونٹنگ اور انجینئرنگ شامل ہیں ان میں سعودی کارکنوں کی خاطر خواہ تعداد کو روزگار کے مواقع میسرآئے ہیں۔

احمد الراجحی کا مزید کہنا تھا’گزشتہ 4 برسوں کے دوران لیبرمارکیٹ کے لیے مرتب کی گئی حکمت عملی بہتر انداز میں عمل کیا گیا ہے تاہم مارکیٹ کی مزید بہتری کیلیے نئی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔وزیر افرادی قوت نے کہاکہ مملکت کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت کی جانب سے مرتب کی گئی اسٹراٹیجی پر عمل کیا جارہا ہے جس میں بنیادی نکتہ بے روز گاری کا خاتمہ ہے اس حوالے سے کمیابی حاصل کی ہے۔

سعودیوں میں بے روزگاری میں کمی کا ہدف سال 2030 تک 7 فیصد مقرر کیا گیا تھا جسے 6 برس قبل ہی حاصل کرلیا گیا۔ وزارت افرادی قوت کی جانب سے سال 2030 کے لیے 5 فیصد کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے جس کے لیے کوشاں ہیں۔معیشت کی ترقی میں سعودی خواتین کی شرکت کے حوالے سے انہوں نے بتایاکہ وزارت کو جو ہدف دیا گیا تھا اس کے مطابق سال 2030 تک 30 فیصد تھا جبکہ نجی شعبے کے بھرپور تعاون سے ہم نے قبل از وقت ہی وہ ہدف حاصل کرلیا۔ اب تک 35 فیصد سعودی خواتین کو مختلف شعبوں میں روزگار فراہم کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button