
کولکاتا میں مسلم پروفیسر سے استعفیٰ کے لیے مبینہ دباؤ، ABVP کارکنوں نے دفتر میں ’شدھی کرن‘ کی رسم ادا کی
میں نے صرف اپنی ذمہ داری نبھائی، طلبہ نے مجھ پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا۔
کولکاتا، 22 ستمبر ( اردو دنیا نیوز / ایجنسیز) کولکاتا کے سورندرناتھ لا کالج میں حاضری کے تنازع نے اس وقت نیا رخ اختیار کرلیا جب وائس پرنسپل اور ٹیچر اِن چارج محمدی ترنم نے الزام عائد کیا کہ طلبہ نے انہیں تقریباً 23 گھنٹے دفتر میں گھیرے رکھا اور دباؤ کے تحت استعفیٰ نامے پر دستخط کرائے۔ ان کے کالج سے پولیس کی نگرانی میں باہر نکلنے کے بعد طلبہ کے ایک گروپ نے ان کے دفتر میں اگربتیاں جلائیں اور گنگا جل چھڑک کر اسے ’شدھی کرن‘ قرار دیا۔
یہ واقعہ 11 ستمبر کو پیش آیا۔ محمدی ترنم کے مطابق طلبہ نے ان کے دفتر کا گھیراؤ کیا، ان کے لیے استعفیٰ کا خط تیار کیا اور دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ پولیس کی مدد سے کالج سے باہر نکلنے کے بعد طلبہ نے ان کے دفتر میں مبینہ طور پر گنگا جل چھڑکا اور اگربتیاں جلائیں۔ ABVP سے وابستہ طلبہ کی جانب سے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
تنازع کی بنیادی وجہ طلبہ کی حاضری کا معاملہ بتایا جا رہا ہے۔ کالج میں سیمسٹر امتحانات میں شرکت کے لیے کم از کم 65 فیصد حاضری ضروری ہے، جبکہ ایک گروپ کے طلبہ مقررہ حاضری پوری نہیں کر سکے تھے۔ محمدی ترنم نے طلبہ کو بتایا تھا کہ امتحانات میں حاضری کے ضابطے پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد احتجاج شدت اختیار کرگیا۔
محمدی ترنم نے دی وائر سے گفتگو میں کہا کہ احتجاج کے دوران انہیں ذات، مذہب اور سیاست سے متعلق نازیبا اور توہین آمیز باتیں سننی پڑیں، جس کے باعث وہ دو دن تک بیمار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے قواعد کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا کر رہی تھیں۔
تاہم، احتجاج میں شامل ایک طالب علم نے محمدی ترنم کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان پر استعفیٰ کے لیے دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ طلبہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ان کا اعتراض حاضری کے نظام اور اس کے طریقہ کار سے متعلق تھا۔
محمدی ترنم نے پولیس کی نگرانی میں کالج سے نکلنے کے فوراً بعد حکومت کو ای میل بھیج کر بتایا کہ انہوں نے استعفیٰ نامے پر دباؤ میں دستخط کیے ہیں۔ 12 ستمبر کو انہوں نے عوامی طور پر بھی واضح کیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر مستعفی نہیں ہوئی ہیں اور اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گی۔
کالج کی گورننگ باڈی کے صدر اور بی جے پی رکن اسمبلی کوستوو باگچی نے کہا کہ پروفیسر کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں اور یہ معاملات اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کو بھیجے گئے ہیں۔ دوسری جانب دستیاب رپورٹس کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے استعفیٰ نامے کی حتمی حیثیت کے بارے میں واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔
سورندرناتھ لا کالج میں طلبہ کے احتجاج اور حاضری کے مسئلے کے باعث امتحانات میں شرکت کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ اس دوران اساتذہ کی جانب سے اضافی کلاسز کا انتظام کیے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ طلبہ مطلوبہ 65 فیصد حاضری مکمل کر سکیں۔
محمدی ترنم ستمبر 2007 سے سورندرناتھ کالج سے وابستہ ہیں اور وائس پرنسپل کے ساتھ ٹیچر اِن چارج کی ذمہ داری بھی انجام دیتی رہی ہیں۔



