کولکتہ میں نایاب طبی سرجری، 10 سالہ نابالغ لڑکی کا منہ ڈھائی سال بعد بند
ایاب بیماری کا شکار 10 سالہ بچی، ڈھائی سال بعد کامیاب سرجری
کولکتہ 29-جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کولکتہ سے ایک انتہائی نایاب اور حیران کن طبی معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 10 سالہ نابالغ لڑکی گزشتہ 912 دن یعنی تقریباً ڈھائی سال تک اپنا منہ بند کرنے سے قاصر رہی۔ طویل اور پیچیدہ علاج کے بعد کولکتہ کے ایک سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں نے کامیابی کے ساتھ اس کا منہ بند کر دیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق بچی آٹو امیون نیورولوجیکل بیماری میں مبتلا تھی، جس کے باعث اس کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر شدید اثرات مرتب ہوئے۔ اس بیماری کی وجہ سے اس کے جبڑے اور چہرے کے پٹھوں کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں وہ طویل عرصے تک اپنا منہ بند نہ کر سکی۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ بچی Acute Disseminated Encephalomyelitis نامی نایاب بیماری کا شکار تھی، جو دماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ بیماری طویل عرصے تک برقرار رہنے کے سبب بچی کے منہ میں خشکی، جبڑے میں عدم توازن اور دانتوں کی غیر معمولی ساخت جیسے سنگین مسائل پیدا ہو گئے تھے، جس سے مستقل نقصان کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔
متاثرہ بچی نے مغربی بنگال سمیت دیگر ریاستوں کے کئی اسپتالوں میں علاج کروایا، تاہم خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ بعد ازاں اسے کولکتہ کے آر احمد ڈینٹل کالج میں علاج کے لیے لایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم نے کیس کا تفصیلی جائزہ لیا۔
کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسپتال میں سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔ مکمل جانچ اور منصوبہ بندی کے بعد نہایت احتیاط کے ساتھ علاج کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد بچی کا منہ بند کرنا اور مزید پیچیدگیوں سے بچاؤ تھا۔
علاج میں شامل ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ طویل اور مشکل طبی عمل کے بعد ٹیم اپنے مقصد میں کامیاب رہی، اور اب بچی آسانی سے اپنا منہ بند کر سکتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کامیابی سے بچی کے منہ میں انفیکشن کے خطرے میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ اس کی بنیادی بیماری کا علاج بدستور جاری ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس نہ صرف نایاب تھا بلکہ طبی دنیا میں ایک بڑی کامیابی کی مثال بھی ہے، جو مستقبل میں ایسے پیچیدہ مریضوں کے علاج میں رہنمائی فراہم کرے گا۔



