بین ریاستی خبریںسرورق

کنال کامرا نے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا

ممبئی پولیس کی تین ایف آئی آرز کے خلاف کنال کامرا کی قانونی چارہ جوئی

ممبئی، 7 اپریل (اردودنیا.اِن/ایجنسیز):کامیڈین کنال کامرا نے پیر کے روز بامبے ہائی کورٹ میں ایک اہم آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف ممبئی پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ کنال کامرا نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 19 (آزادی اظہار) اور 21 (زندگی اور شخصی آزادی کا حق) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر عائد الزامات ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

عدالت عالیہ کی جسٹس ایس وی کوتوال اور جسٹس ایس ایم موڈک پر مشتمل ڈویژن بینچ اس درخواست پر 21 اپریل کو سماعت کرے گی۔

تین مقدمات، ایک ہی مرکز

واضح رہے کہ کنال کامرا کے خلاف کھار پولیس اسٹیشن، ممبئی میں تین الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، جو بلڈھانا، ناسک اور تھانے اضلاع سے منتقل کی گئی ہیں۔ تمام ایف آئی آرز "زیرو ایف آئی آر” کے تحت درج کی گئیں اور بعد ازاں کھار پولیس کو منتقل کی گئیں، جو اب ان مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے۔

الزام: نائب وزیر اعلیٰ پر پیروڈی

پولیس کے مطابق، کنال کامرا پر مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے خلاف ایک "قابل اعتراض پیروڈی گانا” گانے کا الزام ہے۔ یہ شکایت یووا سینا کے رکن روپیش مشرا کی جانب سے درج کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ کامرا نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں شندے پر طنز کیا۔

ایف آئی آر میں تعزیرات ہند کی دفعہ 356(2) کے تحت ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ کنال کامرا کو اب تک تین مرتبہ پوچھ گچھ کے لیے بلایا جا چکا ہے، مگر وہ کسی بھی موقع پر پیش نہیں ہوئے۔

سمن اور پولیس کارروائی

پہلا سمن 25 مارچ کو جاری کیا گیا، جس کے جواب میں کامرا نے 2 اپریل تک مہلت مانگی۔ پولیس نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے 27 مارچ کو دوسرا سمن جاری کیا اور 31 مارچ کو پیش ہونے کا حکم دیا، تاہم وہ حاضر نہ ہوئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، دوسرے سمن کے بعد سے کامرا پولیس کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے میں نہیں ہیں۔

پولیس نے "ہیبی ٹیٹ اسٹوڈیو” سے وابستہ متعدد افراد سے تفتیش کی اور ان کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔ مزید افراد سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button