کرنول بس حادثہ کی نئی تفصیلات: شراب کے نشے میں بائیک سوار کی لاپرواہی سے بھڑکی موت کی آگ
بس حادثے سے پہلے کا ویڈیو وائرل، موبائل فون بیٹری دھماکوں نے بڑھائی بس آگ کی شدت
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آندھرا پردیش کے کرنول ضلع میں جمعہ کی علی الصبح پیش آئے ہولناک بس حادثے کی تحقیقات میں چونکا دینے والا موڑ آیا ہے۔ پولیس کے مطابق حادثے کی اصل وجہ ایک موٹر سائیکل سوار کی شراب کے نشے میں لاپرواہی تھی، جس کی بائیک نجی ٹریول کی بس سے ٹکرا گئی۔ اس تصادم کے نتیجے میں بس میں آگ بھڑک اٹھی، جس میں دو بچوں اور موٹر سائیکل سوار سمیت 20 افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے جبکہ 9 دیگر زخمی ہوئے۔
پولیس نے بتایا کہ ایک قریبی پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں موٹر سائیکل سوار کو حادثے سے چند منٹ پہلے نشے کی حالت میں لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ وہ بائیک پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا اور پٹرول پمپ پر بھی بمشکل کھڑا رہا۔ کچھ دیر بعد اسی بائیک نے نیشنل ہائی وے 44 پر حیدرآباد سے بنگلورو جا رہی بس سے ٹکر ماری، جس سے قیامت خیز آگ لگ گئی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، بائیک کے بس سے ٹکراتے ہی وہ کچھ میٹر تک بس کے نیچے گھسٹتی رہی۔ رگڑ کے باعث بائیک کا فیول ٹینک پھٹ گیا اور بہتے ہوئے پٹرول نے آگ پکڑ لی، جو لمحوں میں بس کے اگلے حصے سے پھیل کر پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے گئی۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو آگ بجھانے میں کئی گھنٹے لگے۔
حادثے میں زندہ بچنے والے این رمیش نے پولیس کو بتایا، ’’کرنول پار کرنے کے فوراً بعد زوردار دھماکہ سنائی دیا، میں نے آگ دیکھی تو اپنی فیملی کو بچانے کے لیے پچھلی کھڑکی توڑ کر چھلانگ لگا دی۔‘‘ رمیش نے بتایا کہ وہ اپنے دوست اور دیگر کئی مسافروں کو نہیں بچا سکے جو دھوئیں اور آگ میں پھنس گئے تھے۔
پولیس کا موقف: بائیکر کی نشے میں حرکت سے حادثہ پیش آیا
کرنول کے ایس پی وکرانت پٹیل کے مطابق، ابتدائی شواہد بائیکر کی نشے میں ڈرائیونگ کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ پولیس نے کیس بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 125(اے) (انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے) اور 106(1) (لاپرواہی سے موت کا سبب بننے) کے تحت درج کیا ہے۔
پولیس نے متوفی بائیکر کے خون کے نمونے ویزرا ٹیسٹ کے لیے بھیجے ہیں تاکہ الکوحل کی مقدار کی تصدیق کی جا سکے۔ اس کا ساتھی فی الحال پولیس تحویل میں ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
حادثے کے وقت یعنی صبح ساڑھے تین بجے کے قریب علاقے میں تیز بارش اور گھپ اندھیرا تھا، جس کے باعث حد نگاہ انتہائی کم تھی۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس نے دو امکانات پر غور کیا ہے —
موٹر سائیکل پہلے سے سڑک کنارے گری ہوئی تھی اور بارش کے باعث بس ڈرائیور اسے دیکھ نہ سکا۔یا پھر نشے میں دھت بائیک سوار خود بس کے سامنے آ گیا، جس سے تصادم ناگزیر ہو گیا۔
ریئل می فونز کی بیٹریاں بھی آگ کی شدت میں کردار ادا کر گئیں
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بس کے اندر تقریباً 234 Realme اسمارٹ فونز رکھے گئے تھے۔ فرانزک ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، بس میں آگ لگنے کے فوراً بعد ان فونز کی لیتھیم آئن بیٹریاں پھٹ گئیں، جس سے شعلے انتہائی تیزی سے پھیل گئے اور بچاؤ کے امکانات ختم ہو گئے۔
حادثے کے بعد جلنے والی نعشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں، جن کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ فائر بریگیڈ نے جائے حادثہ پر کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔ مقامی انتظامیہ نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔
یہ حادثہ نہ صرف سڑکوں پر بڑھتی ہوئی لاپرواہی بلکہ نشے میں ڈرائیونگ کے خطرناک نتائج کا بھی سنگین ثبوت ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتیں، کیونکہ ایک لمحے کی غفلت کئی زندگیاں چھین سکتی ہے۔
The CCTV video of the biker who is involved in #Kurnool #BusAccident 😔
Looks like #drunk 😶
Reason for 19 #innocent 😥 lifes 😫#FireAccident #BusAccident#Hyderabad #bangalore pic.twitter.com/VnED4tEtKT
— cherry_Vibes😎 (@CAdusumall41381) October 25, 2025



