بین الاقوامی خبریں

کویت:26 ہزار خواتین کی شہریت اچانک منسوخ، ہزاروں خاندان بحران کا شکار

26 ہزار خواتین ایک رات میں غیر ملکی قرار

 کویت سٹی ،۲۶؍مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز):کویت میں حکومت نے ایک رات میں تقریباً 26 ہزار خواتین سمیت 37 ہزار افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔ یہ غیر متوقع اور سخت اقدام خاص طور پر ان خواتین کے خلاف لیا گیا جو شادی کے ذریعے کویتی شہریت حاصل کر چکی تھیں۔ مئی 2024 میں کویت کے نئے امیر نے ملک میں جمہوریت کو خطرہ قرار دیتے ہوئے آئین میں ترمیم کی اور پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا۔ اس کے بعد سے شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کے قوانین سخت ہو گئے۔

لاما، جو اردن کی رہائشی اور کویتی مرد سے شادی شدہ ہیں، نے بتایا کہ جب وہ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کر رہی تھیں تو ان کا بینک اکاؤنٹ اچانک منجمد ہو گیا۔ اس کا سبب بعد میں شہریت کی منسوخی نکلا۔ حکومت کے فیصلے نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، کیونکہ بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے کے ساتھ تمام سرکاری سہولیات بھی بند کر دی گئی ہیں۔

کویت کے نئے قانون کے تحت اب صرف وہ افراد کویتی شہری تصور کیے جائیں گے جن کے نسلی طور پر کویتی خون سے تعلق ہو۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں موجود 50 لاکھ افراد میں سے صرف ایک تہائی "اصل کویتی” ہیں۔ نئے قانون میں شہریت منسوخی کے نئے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں، جیسے "اخلاقی بدعنوانی، بے ایمانی، اور حکومتی و مذہبی شخصیات پر تنقید”۔ اس کا فیصلہ ایک اعلیٰ سپریم کمیٹی کرتی ہے، جس کی سربراہی وزیر داخلہ کے پاس ہے۔

کویت میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا جو افراد شادی کے ذریعے کویتی شہریت حاصل کر چکے تھے، انہوں نے اپنی اصل شہریت ترک کی تھی، اور اب شہریت کی منسوخی کے بعد ان کے پاس کوئی شہریت باقی نہیں رہتی، جس سے ان کی قانونی حیثیت غیر یقینی ہو گئی ہے۔

اس سخت فیصلے نے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی نشان دہی کی ہے بلکہ کویت میں رہنے والے غیر نسلی کویتی شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button