سرورققومی خبریں

 لکھیم پور کھیری: دو سگی دلت بہنوں کے ساتھ عصمت اور قتل معاملہ میں 6 افراد گرفتار

آخر یوپی میں خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ آخر حکومت کب جاگے گی؟

لکھنؤ ،15ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوپی کے لکھیم پور کھیری میں دو دلت سگی بہنوں کی لاشیں درخت سے لٹکی ہوئی حالت میں برآمد ہونے کے معاملہ میں پولیس نے 6 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان نے پہلے لڑکیوں سے دوستی کی اور پھر عصمت دری کے بعد قتل کر دیا، تمام ملزمان آپس میں دوست ہیں اور دو نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق دونوں لڑکیوں کو گلا دبا کر قتل کیا گیا اور اس کے بعد ملزمان نے شواہد مٹانے کی کوشش کی۔ تمام ملزمان آپس میں دوست ہیں اور لال پور کے رہائشی ہیں۔

ملزمان دونوں بہنوں کو بہلا پھسلا کر کھیت میں لے گئے تھے اور ان کو اغوا نہیں کیا گیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ لواحقین کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف دفعہ 302، 306 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ملزمان پر پوکسو قانون کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔لکھیم پور کھیری کے اسی پی سنجیو سمن نے میڈیا کو دئے گئے بیان میں کہا کہ دو سگی بہنوں کے قتل کے سلسلہ میں چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان کی شناخت چھوٹو، جنید، سہیل، حفیظ الرحمن، کریم الدین اور عارف کے طور پر ہوئی ہے۔

جنید کو پولیس نے مقابلہ کے دوران گرفتار کیا ہے، جس کے پیر میں گولی لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کی دنوں بہنوں سے دوستی تھی۔ گزشتہ روز سہیل اور جنید انہیں پھسلا کر کھیت میں لے گئے اور ان کے ساتھ عصمت دری کی۔ جب لڑکیوں نے مزاحمت کی تو سہیل، حفیظ اور جنید نے انہیں قتل کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے کریم الدین اور عارف کو بلایا، لاشوں کو لٹکا دیا اور ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ چھوٹو لکھیم پور کھیری کے لال پور گاؤں کا رہائشی ہے۔ چھوٹو لڑکیوں کا پڑوسی ہے اور اس نے ہی ان کا تعارف دوسرے ملزمان سے کرایا تھا۔ اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس سے پہلے یوپی کے لکھیم پور میں دو سگی نابالغ بہنوں کی مشتبہ موت کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سنسنی پھیل گئی تھی۔ دونوں بہنوں کی لاشیں گنے کے کھیت میں درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں۔ متاثرہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں کو پہلے اغوا کیا گیا پھر زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ یوپی پولیس نے نابالغ بہنوں کی ماں کی تحریری شکایت کے بعد اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں ایک نامزد اور تین نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔

مقدمہ میں پوکسو ایکٹ، عصمت دری اور قتل جیسی سنگین دفعات بھی عائد کی گئی ہیں۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ کے گھر والوں نے پولیس پر لاش کو زبردستی قبضے میں لینے کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ اس دوران پولیس اور گاؤں والوں کے درمیان زبردست جھڑپ بھی ہوئی۔ مشتعل دیہاتیوں نے سڑک بھی بلاک کر دی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔


اُن سے خواتین تحفظ کی توقع فضول ہے جو زانیوں کو رِہا کراتے ہیں: راہل گاندھی

لکھیم پور کھیری واقعہ پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ لکھیم پور میں دو نابالغ دلت بہنوں کا دن دہاڑے اغوا کے بعد قتل ایک انتہائی پریشان کن واقعہ ہے۔عصمت دری کرنے والوں کو رہا کرانے اور ان زانیوں کو پھول مالا سے تکریم و اعزازکرنے والوں سے خواتین کے تحفظ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں اپنی بہنوں اور بچیوں کے لیے ملک میں محفوظ ماحول بنانا ہے۔

لکھیم پور سانحہ پر پرینکا گاندھی کا سوال، خواتین کے تئیں جرائم میں اضافہ کیوں؟

کانگریس کی اتر پردیش کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں خواتین پر مظالم کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور ریاستی حکومت اس معاملے میں بے حس نظر آ رہی ہے۔ ادھر، کانگریس پارٹی نے بھی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یوگی حکومت جاگے اور خواتین کو تحفظ فراہم کرے۔پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ لکھیم پور (اتر پردیش) میں دو بہنوں کے قتل کا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کو دن دیہاڑے اغوا کیا گیا تھا۔ روزانہ اخبارات اور ٹی وی میں جھوٹے اشتہارات دینے سے نظم و نسق کی صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی۔

آخر یوپی میں خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ آخر حکومت کب جاگے گی؟ادھر کانگریس کے ٹوئت ہینڈل سے لکھا گیا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں یوپی نمبر ایک ہے۔ نظم و نسق کی صورت حال کا ڈھول پیٹنے والی حکومت جاگے اور خواتین کو تحفظ فراہم کرے۔ ٹوئٹ کے ساتھ جو خبر شیئر کی گئی ہے اس کے مطابق لڑکیاں دلت تھیں اور انہیں تین لڑکے اغوا کر کے لے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button