آشیش مشرا سمیت 14 پر چلے گاقتل مقدمہ
نئی دہلی:(اردودنیا/ایجنسیاں) اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری معاملے میں نیا موڑ آیا ہے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی جانچ میں پایا ہے کہ کسانوں کو گاڑی سے کچلنے کا پورا واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ ایس آئی ٹی نے اب ملزمین پر لگائی گئی دفعات کو بھی بدل دیا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو اب مجرمانہ قتل کے بجائے قتل کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لکھیم پور واقعہ کے اہم ملزم آشیش مشرا سمیت 14 لوگوں پر تحقیقات کے بعد دفعہ میں تبدیلی کی گئی ہے۔
تمام ملزمان پر دانستہ طورپر اورمنصوبہ بندی کے تحت جرم کرنے کا الزام ہے۔ ایس آئی ٹی نے آئی پی سی کی دفعہ 279، 338، 304 اے کو ہٹا دیا ہے اور 307، 326، 302، 34،120 بی، 47,148,149,3/25/30نافذ کیا ہے۔
لکھیم پور تشدد : پرینکا گاندھی نے ایس آئی ٹی رپورٹ پر کہا
پی ایم مودی کسان مخالف ذہنیت رکھتے ہیں
ایس آئی ٹی کی اس رپورٹ پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے۔ پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کو برطرف نہ کرنا پی ایم مودی کی کسان مخالف ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ عدالت کی سرزنش اور ستیہ گرہ کی وجہ سے اب پولس بھی کہتی ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے نے سازش کر کے کسانوں کو کچلا تھا، اس سازش میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کیا رول تھا؟ لیکن پی ایم مودی جی کی کسان مخالف ذہنیت کی وجہ سے آپ نے انہیں عہدے سے بھی نہیں ہٹایا۔



