لکھنؤ ،15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) لکھیم پور کھیری کے تکونیا تشدد کیس کے کلیدی ملزم اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش مشرا مونو کو چار ماہ سے زیادہ کے بعد منگل کی شام ضلع جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ جیل انتظامیہ نے دوپہر کو رہائی کا حکم ملنے کے بعد قابل ضمانت کارروائی شروع کی، جس کے بعد دیر شام آشیش مشرا مونو کو تین لاکھ کے ذاتی مچلکے پر رہا کر دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ جیل میں آشیش مشرا کی ضمانت کے آرڈر کے سلسلے میں پیر کو درخواست داخل کی گئی، جس کی تصدیقی رپورٹ منگل کو ڈسٹرکٹ جج کورٹ میں موصول ہوئی، ڈسٹرکٹ جج مکیش مشرا نے آشیش مشرا مونو کے رہائی کا حکم نامہ جاری کیا،جس کی بنیاد پر آشیش مشرا کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔آشیش مشرا کے وکیل ان کی رہائی کے لیے جیل پہنچے تھے۔ آشیش مشرا کی رہائی کے پیش نظر میڈیا کی بڑی تعداد جیل کے باہر جمع تھی۔
دوسری طرف ضلع جیل سے تقریباً 500 میٹر کی دوری پر واقع مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجے مشرا ٹینی کے دفتر میں کافی ہنگامہ ہے،وہیںبھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے آشیش مشرا کی رہائی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ کسان مورچہ (ایس کے ایم) اس معاملہ کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔ ٹکیت نے اسمبلی انتخابات کے درمیان بی جے پی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد کی موت ہو گئی ہے۔ لکھیم پور کھیری کا واقعہ پورے ملک نے دیکھا،اس سفاکانہ جرم کے ارتکاب کے بعد بھی آشیش مشرا کو تین ماہ کے اندر ضمانت مل گئی۔ٹکیت نے کہا کہ سب اسے دیکھ رہے ہیں،وہ آج جیل سے باہر نکلا ہے ، لیکن ہم اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔



