
ترووننت پورم:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لکشدیپ میں پچھلے کچھ دن سے پٹیل کے متنازعہ اقدامات اورمبینہ انتظامی اصلاحات پر لوگ سراپااحتجاج ہیں۔ سابق بیوروکریٹس نے وزیر اعظم کو کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط میں بیوروکریٹس نے لکشدیپ کی صورتحال پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔93 سابق سرکاری عہدیداروں نے اپنے کھلے خط میں لکشدیپ میں حالیہ پیشرفت پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ایک پریشان کن ترقی ہے۔
انہوں نے کہاہے کہ اس طرح کے ترقیاتی نمونہ کو وسطی علاقوں کے لیے یقینی بنایا جاناچاہیے جس میں مقامی لوگوں کے خیالات بھی شامل ہیں۔ سابق بیوروکریٹس نے لکشدیپ کے ترقیاتی ماڈل میں تعلیم ، سلامتی اور گڈ گورننس جیسی چیزوں کو شامل کرنے کی اپیل کی ہے۔لکشدیوپ کے لوگ پٹیل کے حالیہ فیصلے کے خلاف پچھلے کچھ دنوں سے متحد ہیں۔ فیصلہ لیتے ہوئے پٹیل نے گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔
جبکہ زیادہ تر آبادی اس کا استعمال کرتی ہے ، اس کے علاوہ لکشدیپ میں شراب فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے ، جس کی وجہ سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ دوسری طرف لکشدیپ کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کیرالہ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں مرکز سے اپیل کی تھی کہ وہ پٹیل کو واپس بلائے اور جزیرے کے لوگوں کی زندگیاں بچائے۔



