پٹنہ:(اردودنیا.اِن)چارہ گھوٹالہ کیس میں دسمبر 2017 میں جیل گئے لالو یادو کو آخر کار ساڑھے تین سال بعد رہا کردریا گیا ۔ جمعرات کو ان کی رہائی کے احکامات دہلی ایمس بھیجے گئے تھے ، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اب ایمس کے پاس رہائی کے حکم کی ہارڈ کاپی بھی مل گئی ہے، اب لالو قید سے آزاد ہیں ، لیکن اہل خانہ نے انہیں فی الحال ایمس میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کی صحت خراب ہے، مستقل طبی امداد کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹروں کے مشوروں کے بعد ہی انہیں اسپتال سے باہر لایا جائے گا۔لالو کی رہائی کے بعد انہیں دہلی میں راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ بیٹی میسا بھارتی کی سرکاری رہائش گاہ پر رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔لالو 25 جنوری سے ایمس میں زیر علاج ہیں۔ اہل خانہ نے بتایا کہ آر جے ڈی سربراہ کو ابھی پٹنہ نہیں بھیجا جائے گا۔ ان کی صحت بگڑ رہی ہے ، اورکرونا کے پیش نظر کوئی خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دہلی میں طبی نظام بہتر ہے،لالویادو کو ڈاکٹر کی دیکھ بھال میں رہنا ہے۔
اس صورتحال میں دہلی ان کے لئے بہتر ہے۔ ڈاکٹروں کے مشوروں کے بعداہل خانہ فیصلہ لیں گے۔اہل خانہ کو خدشہ ہے کہ اگر لالو پٹنہ آئے، تو ان کے حامیوں کی بھیڑ بڑھ جائے گی۔ رابڑی دیوی کی سرکاری رہائش گاہ پر روزانہ ہزاروں افراد مقیم ہوں گے۔ اس صورتحال میں انفیکشن بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ لالو یادو کو چارہ گھوٹالے سے متعلق ایک کیس میں 18 اپریل کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ضمانت ملی تھی۔



