
69 ہزار اساتذہ کی بھرتی منسوخ کرنے کیخلاف امیدواروں کا دیر شب احتجاج
ریزرویشن میں گھوٹالہ ہوا ہے اور اب وہ تقرری نامہ کے بغیر وہاں سے نہیں ہٹیں گے
لکھنؤ ،21اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اتر پردیش میں 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے نئی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد اساتذہ اپنی نوکریوں کو لے کر پریشان ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ ان کی نوکری رہے گی یا ختم ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق لکھنؤمیں بنیادی تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ کے باہر ٹیچر امیدواروں نے ٹارچ جلا کر مظاہرہ کیا۔ وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں اب انصاف ملنا چاہیے کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ بھرتی کا عمل پھر سے تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔لکھنؤ میں ڈائریکٹوریٹ آف بیسک ایجوکیشن کے باہر ریاست کے مختلف اضلاع سے امیدوار پہنچے تھے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں تقرری نامہ دیا جائے۔ وہ رات گئے موبائل فون کی ٹارچ جلا کر اور بینرز اور پوسٹرز اٹھا کر حکومت کیخلاف نعرے لگا رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریزرویشن میں گھوٹالہ ہوا ہے اور اب وہ تقرری نامہ کے بغیر وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت انہیں تحریری طور پر شیڈول جاری کرے اور بتائے کہ ان کی کونسلنگ کس تاریخ کو ہوگی اور انہیں کس تاریخ کو تقرری نامہ دیا جائے گا۔ان مظاہرین کے احتجاج کی ویڈیو شیئر کر کے سابق وزیر اعلیٰ اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے یوگی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ 69 ہزار اساتذہ کی ایمانداری سے بھرتی کے لیے کمپیوٹر تین گھنٹے میں مکمل فہرست تیار کر سکتا ہے۔
یوپی کی بی جے پی حکومت جو 3 ماہ کا وقت مانگ رہی ہے وہ مشکوک ہے۔ اس کی وجہ سے گھوٹالے کرنے والی بی جے پی حکومت کے خلاف امیدواروں میں یہ شبہ پیدا ہو رہا ہے کہ کسی کے ذریعہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جا کر ریزرویشن مخالف بی جے پی حکومت اسے اپنی میعاد کی بقیہ مدت تک ملتوی تو نہیں کرنا چاہتی! بی جے پی کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ عوام نے اس کا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے اور اب عوام بی جے پی کے چہرے اور فطرت کو پہچان چکے ہیں۔اس معاملے میں یوپی کے وزیر تعلیم نے کہا ہے،وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی کے معاملے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ حکومت کسی بھی زمرے کے فرد کے مستقبل کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہونے دے گی۔ حکومت ان کے مستقبل کو یقینی بنانے اور محفوظ بنانے کے لیے کام کرے گی۔وزیر اعلیٰ یوگی نے اس معاملے میں ایکس پوسٹ میں کہا کہ اتر پردیش حکومت کی واضح رائے ہے کہ ریزرویشن زمرہ کے امیدواروں کو آئین کے ذریعہ دی گئی ریزرویشن سہولت کا فائدہ ملنا چاہئے اور کسی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں محکمہ کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔



