
رملہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست فضائی سروس شروع ہو چکی ہے۔عبرانی اخبار نے ’کے اے این‘ نامی نشریاتی ادارے کے حوالے سے بتایا کہ پیر کی شام کو اسرائیل کے تل ابیب میں قائم بن گوریون ہوائی اڈے سے ایک پرواز سعودی عرب کے شہر الریاض کے لیے روانہ ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق اماراتی کمپنی رائل جیٹ کی پرواز A6-AIN 737 VIP تل ابیب سے مسافروں کو لے کر سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض پہنچی۔ اخبار نے اس خبر کے حوالے سے مزید تفصیل بیان نہیں کی۔
یہودی کالونیوں کو راکٹ پروف بنانے کے لیے خطیر رقم کا بجٹ منظور
اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں سے راکٹ حملوں کے خطرات کے پیش نظر یہودی کالونیوں کو راکٹ پروف بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے غزہ کے قریب واقع یہودی کالونیوں کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ شیکل کی رقم مختص کی ہے۔ یہ رقم غزہ کے قریب بالخصوص عسقلان کے علاقے میں موجود کالونیوں کو فلسطینیوں کے راکٹ حملوں سے بچانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اسرائیلی کنیسٹ کی مالیاتی کمیٹی کےچیئرمین الیکس کوشنر نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کے قریب بسنے والے ہزاروں یہودی آباد کاروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں اور وہ غیر محفوظ ہیں۔کسی بھی وقت وہ حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب عسقلان کے اسرائیلی میئر تامر گلام نے یہودی کالونیوں کی سیکیورٹی کے لیے منظور کرہ بجٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ارب کا چوتھا حصہ بجٹ مختْص کرنا اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ اس وقت ہمیں عسقلان اور فلسطینیوں کے راکٹوں کے ممکنہ نشانے پر تمام علاقوں کی کالونیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہوگی۔
رکن کنیسٹ کشنر نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ایک طویل جدو جہد کے بعد ہم یہودی کالونیوں کے دفاع کے لیے بجٹ منظور کرانے میں کامیاب رہے ہیں



