باجماعت نمازوں میں خواتین کی شرکت کے لئے مکروہ مہم کا اعلان
نئی دہلی، 6مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آرایس ایس سے منسلک مسلم راشٹریہ منچ Muslim Rashtriya Manch مسلم خواتین کو مساجد اور عید گاہوں میں نماز کی اجازت دینے کے لیے ایک مہم چلانے جا رہا ہے۔ وہیں مسلم منچ نے شادی کی کم از کم عمر طے کرنے کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔دراصل مسلم راشٹریہ منچ کے بانی اور چیف سرپرست آر ایس ایس کے سینئر لیڈر اندریش کمار کی قیادت میں منچ کے کارکنوں نے اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹروں کو بی جے پی سے جوڑنے کی مہم چلائی تھی۔
اس دوران اندریش کمار کے علاوہ فورم سے وابستہ د و اعلیٰ رہنماؤں نے اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے تقریباً 40 اضلاع کا دورہ کیا اور مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے ملاقات کی اور ان کی خواہشات کو سمجھنے کی کوشش کی۔غازی آباد، میرٹھ، مظفر نگر، امروہہ، رام پور، سہارنپور، بریلی، بجنور، شاہجہاں پور، سنبھل، بہرائچ، کیرانہ، علی گڑھ، آگرہ، کانپور، لکھنؤ، فیض آباد، سہارنپور، گورکھپور، اعظم گڑھ، گونڈہ، بستی، سدھارتھ نگر، کشی نگر، دیوریا، دہرادون، ہری دوار سمیت مختلف اضلاع کے دوروں اور مسلمانوں سے ملاقات کی بنیاد پر، مسلم منچ نے محسوس کیا کہ ہندوستان کا مسلم معاشرہ طاقت کے ذریعے مسلط کردہ برائیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مسلم منچ کے موقف کے مطابق تین طلاق سے چھٹکارا پانے کے قانون نے اسے ایک راستہ دکھایا ہے۔ اس لیے منچ نے مسلم خواتین کو مساجداور عید گاہوں میں نمازباجماعت میں شرکت اور شادی کی کم از کم عمر مقرر کرنے کے مساوی حقوق پر ایک مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مسلم راشٹریہ منچ کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے ملک میں بیداری مہم اور عوامی تحریک کے ذریعے مسلم معاشرے کی بہتری اور تبدیلی کے لیے کام کرے گا ۔ خیال رہے کہ اسلامی شرعی اعتبار سے مساجد اور دیگر باجماعت نمازوں میں خواتین کی شرکت ممنوع ہے ، اس کی کسی طرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اسلامی فقہااور مجتہدین نے سختی سے خواتین کی باجماعت نمازوں میں شرکت کی تردید کی ہے ۔
واضح ہو کہ آرایس ایس وقتاً فوقتاً اسلامی شعائر پر کچوکے لگانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، عورتوں کی باجماعت نمازوں میں شرکت کیلئے مہم کو اسی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔



