بالاپور ١٩ دسمبر بروز اتوار بزم تحفظ اردو ادب کے زیر اہتمام یادوں کے چراغ کا رسم اجراء و عظیم الشان آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد عالی جناب خان محمد اظہر حسین صاحب سابق وزیرِ مملکت کی صدارت میں عمل میں آیا، اجرا کی رسم عالی جناب، خطیب سید ناطق الدین صاحب سابق ایم، ایل، سی، نے ادا کی رسم اجراء کی تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا نعت رسول ابراہیم شوق صاحب نے پیش کی بزم تحفظ اردو ادب کے روح رواں عارف زماں صاحب نے تاثرات پیش کۓ جناب منظور ندیم صاحب ڈاکٹر گائکواڑ آغاز بلڈانوی شیخ وزیر قریشی صاحب اور عارف زماں صاحب و تمام احباب بزم تحفظ اردو ادب حاضر تھے ۔
تمام نے یادوں کے چراغ پر روشنی ڈالی جناب منظور ندیم صاحب، سیشن جج ڈاکٹر آغاز بلڈانوی و وزیر قریشی مہمان خصوصی کی موجود گی نے اس مشاعرے کو مزید زینت بخشی اس موقع پر اس کتاب کو اشاعت کے دشوار مرحلوں سے گزار کر منظرِ عام پر لانے کی جستجو میں لگے اراکینِ بزم کو بھی بزم تحفظِ اُردو ادب کی جانب سے ایوارڈ سے نوازہ گیا، دور دراز سے آۓ مہمانان کا عارف زماں صاحب نے پرزور استقبال کیا۔
آل انڈیا عظیم الشان مشاعرہ جس میں مشہور و معروف شعراء و شاعرات جن میں یوسف فلاحی صاحب فیاض عازم صاحب اشفاق احمد صاحب ظفر شاد صاحب سبحان زیدی صاحب شجاعت کامل صاحب منتظم رونق آبادی صاحب شکیل انجم صاحب ڈاکٹر محمد مجیب الرحمان قمر صاحب ناز پروائی صاحبہ عارف زماں صاحب شمع صاحبہ ریاض انور صاحب ابراہیم شوق صاحب ماجد رضا صاحب آغاز بلڈانوی صاحب تنویر احمد صاحب احمد علی رفعت صاحب سلیم یاور صاحب ڈاکٹر نفیسہ حیا صاحبہ اطیع اللہ انصاری صاحب تنویر تسکینی صاحب تجمل زاہد صاحب شمس ذوالقرنین صاحب رشید قمر صاحب نفیس صاحب ابراہیم خان صاحب ریشماء طلعت صاحبہ عبدالواحد عائش صاحب نے عمدہ کلام سے سامعین کو محظوظ کیا رسم شکریہ عارف زماں صاحب نے نظامت کے فرائض حسن خوبی کے ساتھ فہیم اختر صاحب نے انجام دۓ اسطرح ایک تاریخی و کامیاب مشاعرہ رات ٹھیک دس بجے اپنے اختتام کو پہنچا۔



