لاوانیا موت کیس: زبردستی تبدیلی مذہب اور دھوکہ دہی پر قابو پانے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی داخل
نئی دہلی ،یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دھوکہ دہی اور زبردستی تبدیلی مذہب کو کنٹرول کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں سپریم کورٹ سے مرکز اور ریاستوں کو سخت قدم اٹھانے کی ہدایت دینے کو کہا گیا ہے۔ درخواست میں تمل ناڈو میں نابالغ لاونیا کی موت کی وجہ کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد ایجنسی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
یہ جانچ این آئی اے یا سی بی آئی جیسی آزاد ایجنسی سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، حالانکہ مدراس ہائی کورٹ نے پیر کو اس معاملے کی سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ درخواست میں لا کمیشن کو 3 ماہ کے اندر دھوکہ دہی میں تبدیلی مذہب کے معاملے پر رپورٹ تیار کرنے اور تبدیلی مذہب پر قابو پانے کے لیے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت مانگی گئی ہے۔
بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے نے تبدیلی مذہب کو لے کر سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی ہے۔درخواست کے مطابق لوگوں کو زبردستی تبدیلی مذہب پر مجبو رکیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے،جبکہ انہیں خود کو تبدیل کرنا چاہیے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ دھوکہ دہی اور دھمکیاں دینا، تبدیلی مذہب کے لیے کسی بھی قسم کا لالچ دینا آئین کے آرٹیکل 14، 21، 25 کی خلاف ورزی ہے، واضح رہے کہ لاونیا نے 19جنوری کو زہر کھا لیاتھا۔
اس نے موت سے پہلے کے اپنے بیان میں بتایا کہ مشنری اسکول کی طرف سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور عیسائی مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔



