
بیروت؍دمشق، ۵؍ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شام نے کہا ہے کہ بحران زدہ لبنان کو گیس اور بجلی کی ترسیل کے لیے اپنا زمینی راستہ دینے کی اجازت پر متفق ہے۔اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق شام میں 10 سال سے جاری خانہ جنگی کے بعد ہفتہ کے بیروت سے دمشق کے لئے پہلے اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے دوران اس بات کا اعلان کیا گیا ہے۔لبنان کی معاشی تباہی کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایندھن کی شدید قلت اور بجلی کی بندش نے ریستورانوں، دکانوں اور صنعت کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں جیسی اہم خدمات کو مفلوج کردیا ہے۔
دمشق انتظامیہ کے خلاف امریکی پابندیوں کے باوجود شام کے بنیادی ڈھانچے کا استعمال کرتے ہوئے اب بیروت مصر سے گیس اور اردن سے بجلی درآمد کرنے کا معاہدہ کرنے کی امید رکھتا ہے۔لبنان کے اعلیٰ عہدیدار ناصری خوری نے بتایا ہے کہ لبنان کی عبوری نائب وزیراعظم زینہ عکر کی قیادت میں وفد کی شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد اور وزیر تیل بسام تومے سے ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات کے بعد لبنان کے اعلی عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ شام اپنی سرزمین سے مصری گیس اور اردن کی بجلی کی ترسیل کے حوالے سے لبنان کی مدد کے لیے تیار ہے۔لبنانی عہدیدار ناصری خوری نے مزید بتایا کہ دونوں ملکوں نے اس منصوبے کی تکنیکی تفصیلات پر نظر رکھنے کے لیے مشترکہ ٹیم کے قیام پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ زدہ شام کو توانائی منتقل کرنے کے کام کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر کام کی ضرورت ہوگی۔
دریں اثنا لبنان کی صدارت نے اس سے قبل امریکہ کی زیر قیادت ورلڈ بینک کے ساتھ مذاکرات کئے تاکہ اس کی درآمدات کے لیے مالی مدد کی جاسکے۔لبنان شام کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے لیکن اس نے2011 میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد سے علیحدگی کی پالیسی اختیار کی جس نے سرکاری سطح پر معاملات کو متاثر کیا۔حالیہ برسوں میں لبنانی سیکیورٹی حکام اور سیاستدانوں نے شام کے کئی دورے کیے جو زیادہ تر ذاتی حیثیت کے تھے یا یہ دورے ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے تھے جو شامی صدر بشار اسد کی حکومت کی حمایت کرتی ہیں۔
یہ دورہ لبنان کی صدارت کے گزشتہ ماہ کے اس بیان کے بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے اردن اور مصر سے شام کی سرزمین کے ذریعے لبنان کو بجلی اور گیس کی فراہمی میں مدد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔



