بین الاقوامی خبریں

ہمارے پیاروں کو رہا کرایا جائے: اسرائیلی یرغمالیوں کے اقارب کا کرم سالم‘ کراسنگ پر دھاوا

مغوی 80 سالہ شخص کی بہو یورام میٹزگر نے چیخ کرکہا کہ وہ کب تک زندہ رہے گا؟

مقبوضہ بیت المقدس،10جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ کی پٹی میں شدید جنگ کو تین ماہ گذر چکے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے اقارب کے غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ جنگ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔حالیہ عرصے کے دوران دوسری جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کے اقارب کی بڑی تعداد نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان قائم کرم ابو سالم کراسنگ پر دھاوا بول دیا تاہم سکیورٹی فورسز نے کراسنگ کو بند کردیا۔ اطلاع کے مطابق اسرائیلی پولیس نے غزہ میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ کو گرفتار کیا جنہوں نے یہ بہانہ بنا کر کراسنگ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی کہ یہ ایک بند فوجی علاقہ ہے۔

اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کی جانب سے کرم سالم کراسنگ کو بند کرنے اور غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کو روکنے کی کوشش کے بعد سامنے آیا ہے۔دریں اثنا مغوی 80 سالہ شخص کی بہو یورام میٹزگر نے چیخ کرکہا کہ وہ کب تک زندہ رہے گا؟۔انہوں نے کہا کہ ان کے عزیزوں کو اتنے عرصے سے یرغمال بنایا گیا ہے مگر حکومت کچھ نہیں کرسکی۔ ہم کب تک انتظار کریں۔قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی وجہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے جب وہ گذشتہ پیر کو کنیسٹ میں تقریر کر رہے تھے۔زیر حراست افراد کے رشتہ دار، اپنے بچوں کی نشانیاں اور تصویریں اٹھائے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔’’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘‘۔ نیتن یاہوکے اس بیان کے ردعمل میں کہ اسرائیلی فوج کو غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button