سرورققومی خبریں

مسلم لڑکی کے عشق میں ہلاک انکت کے تمام قاتلوں کو عمر قید کی سزا

انکت کے اہل خانہ نے ان پر قتل کا الزام لگایا تھا

نئی دہلی ،7مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے سال 2018 میں ہوئے انکت سکسینہ قتل کیس سے متعلق کیس میں آج اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر مجرم پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔جرمانے کی یہ رقم متوفی انکت سکسینہ کے اہل خانہ کو دی جائے گی۔عدالت نے محمد سلیم، اکبر علی اور ان کی اہلیہ شہناز بیگم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مجرموں کی عمر اور مجرمانہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے سزائے موت نہیں دی جا رہی۔ایڈیشنل سیشن جج سنیل کمار شرما کی عدالت نے سائنسی شواہد اور عینی شاہدین کی گواہی پر 23 دسمبر 2023 کو ان سبھی کو مجرم قرار دیا تھا۔

استغاثہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ انکت کا قتل کسی دوسری برادری کی لڑکی کے ساتھ محبت کی وجہ سے ہوا تھا۔انکت سکسینہ کیس میں ملزم کو عمر قید کی سزا پر انکت کی ماں نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔ ملزم کو پھانسی دی جائے۔ انہوں نے جس قسم کا جرم کیا ہے اس کے مطابق سزا موت سے کم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔انکت سکسینہ کا مغربی دہلی کے رگھوبیر نگر میں بین ذاتی شادی کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ عدالت نے انکت کی گرل فرینڈ کی والدہ شہناز بیگم، والد اکبر علی اور ماموں محمد سلیم کو قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔فروری 2018 میں 23 سالہ فوٹوگرافر انکت سکسینہ کو قتل کر دیا گیا تھا۔

معلومات کے مطابق، انکت کی گرل فرینڈ کے گھر والوں نے مغربی دہلی کے کھیالہ علاقے کے رگھوبیر نگر علاقے میں انکت کا قتل کر دیا تھا۔ انکت، اکبر علی اور شہناز بیگم کی بیٹی کے ساتھ تعلقات میں تھا دونوں اس رشتے کیخلاف تھے۔انکت سکسینہ کو اکبر علی، اس کی بیوی شہناز بیگم اور اس کی گرل فرینڈ کے ماموں محمد سلیم نے بری طرح پیٹا۔ اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ انکت کے اہل خانہ نے ان پر قتل کا الزام لگایا تھا اور سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button