امراض کی علامات جگر کے پانچ اشارے
اگر جگر خون کو مناسب طریقے سے صاف نہ کریں تو جلد کی سطح پر دھبے بننے لگتے ہیں
جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرنے کے لئے جگرکا کردار ہوتا ہے، یہ نہ صرف خون کو فلٹر کرنے بلکہ ہارمونز بنانے، توانائی ذخیرہ کرنے اور ایسے اجزاء کو بنانے کا بھی کام کرتا ہے جو معدے کو غذا ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔اور یہ محض جگر کے ضروری افعال میں سے چند کا ذکر ہے۔انسانی جسم کی صحت کے لیے جگر بہت اہم ہوتا ہے اور اس میں معمولی خرابی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے مگر اس کے امراض عام طور پر اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔تاہم اگر جگر کے مسائل کی علامات یا نشانیوں سے واقف ہو تو وہ مختلف جان لیوا امراض سے خود کو بچایاجا سکتا ہے۔یہاں ایسی ہی چند عام علامات بتائی جارہی ہیں جو جگر کے امراض کی نشاندہی کرتی ہیں۔
مسلز کمزور ہونا
پھولی ہوئی توند یا پیر کے ساتھ کمزور بازو اور ٹانگیں جسم میں سیال کے عدم توازن کا باعث بنتے ہیں جو کہ جگر کی بیماری کا نیتجہ ہوتا ہے، مسلز کی یہ کمزوری بھی جگر کی بیماری ایڈوانس اسٹیج کی علامت ہے۔
جلد پر دھبے پڑجانا
اگر جگر خون کو مناسب طریقے سے صاف نہ کریں تو جلد کی سطح پر دھبے بننے لگتے ہیں، اس طرح کے دھبے کسی مکڑی کی طرح نظر آتے ہیں، جو عام طور پر سینے اور دھڑ پر نمایاں ہوتے ہیں۔
ذہنی الجھن کا شکار
بیمار جگر خون اور دماغ میں کاپر کے جمع ہونے کی اجازت دے دیتا ہے، جس کے نتیجے میں الزائمر جیسی ذہنی الجھن کا سامنا ہوتا ہے، اس طرح کی الجھن جگر کے امراض کی ایڈوانس سطح کی نشانی سمجھی جاتی ے، یعنی یہ پہلی یا واحدعلامت نہیں جو جگر کی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
زرد آنکھیں یا جلد
جب جسم خون کے پرانے خلیات کو توڑتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایک زرد کا مرکب بنتا ہے جسے bilirubin کہا جاتا ہے، صحت مند جگر کو اس مرکب کو تلف کرنے میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہوتا، تاہم اگر وہ بیمار ہو تو یہ زرد مرکب خون میں جمع ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں جلد اور ا?نکھوں کی رنگ زرد ہونے لگتے ہیں، اسے یرقان بھی کہا جاتا ہے، گہرے رنگ کا پیشاب بھی اس کی ایک علامت ہے۔
جوڑوں میں درد
جوڑوں کے جیسا درد، قے، متلی، تھکاوٹ اور بھوک ختم ہوجانا سب جگر کے امراض کی نشانیاں ہیں، خاص طور پر آٹو میون ہیپاٹائٹس کی، ہیپاٹائٹس کی اس قسم میں جسم کا دفاعی نظام غلطی سے جگر کے خلیات اور ٹشوز پر حملہ آور ہوجاتا ہے، یہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ عام ہوتا ہے۔



