لوک سبھا انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ ملک ’ہندو راشٹر‘ نہیں : امرتیہ سین
معروف ماہر اقتصادیات نے کہا کہ سیاسی طور پر آزادانہ خیالات کی ضرورت ہے
کولکاتہ،27جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے کہا کہ حال ہی میں برآمد ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے نتائج اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ہندوستان ’ہندو راشٹر‘ نہیں ہے۔ امریکہ سے کولکاتا پہنچے امرتیہ سین نے نئے نظام کے تحت لوگوں کو بغیر سماعت جیل میں قید کئے جانے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ایک بنگالی نیوز چینل سے کہا کہ ہندوستان ہندو راشٹر نہیں ہے، یہ بات انتخابی نتائج سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہمیشہ ہر انتخاب کے بعد تبدیلی کی امید کرتے ہیں۔ پہلے (بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے دوران) جو کچھ ہوا، مثلاً لوگوں کو بغیر سماعت کے سلاخوں کے پیچھے ڈالنا اور امیر اور غریب کے درمیان کھائی کو چوڑا کرنا، وہ اب بھی جاری ہے، اسے روکنا ہوگا۔
معروف ماہر اقتصادیات نے کہا کہ سیاسی طور پر آزادانہ خیالات کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب تک ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور اس کا آئین بھی سیکولر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر میں بدلنے کی سوچ صحیح ہے۔امرتیہ سین کا خیال رہے کہ نئی وزارت کونسل سابقہ وزارت کونسل کی نقل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزرا کے اب بھی وہی قلمدان ہیں۔ معمولی پھیر بدل کے باوجود، سیاسی طور پر طاقت ور لوگ آج بھی طاقت ور ہیں۔امرتیہ سین نے یاد کیا کہ جب ان کا بچپنا تھا اور ہندوستان میں برطانوی راج تھا تو لوگوں کو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ میرے بہت سے چچا اور چچازادوں کو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ہمیں امید تھی کہ ہندوستان اس سے آزاد ہو جائے گا۔ یہ سلسلہ سابق حکومتوں میں بھی بند نہیں ہوا اور کوئی تبدیلی نہیں ہوئی لیکن موجودہ حکومت کے تحت یہ زیادہ رائج ہے۔



