سرورققومی خبریں

لوک سبھا انتخابات: چوتھے مرحلے میں شام پانچ بجے تک 62.31 فیصد پولنگ

پی ایم مودی نے ووٹنگ کے کم فیصد پر کئی بار تشویش کا اظہار کیا

نئی دہلی، ۱۳؍مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لوک سبھا انتخابات 2024 کے چوتھے مرحلے میں پیرکو اتر پردیش، آندھرا پردیش اور تلنگانہ سمیت 10 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی 96 لوک سبھا سیٹوں پر پولنگ ہوئی۔ شام 5 بجے تک تخمینی اوسط ووٹنگ 62.31 فیصد رہی۔الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق مغربی بنگال میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ 75.66 فیصد رہا، جب کہ جموں و کشمیر کی سری نگر سیٹ پر 35.75 فیصد ووٹنگ ہوئی، جو گزشتہ چند دہائیوں میں سب سے بہتر ووٹ فیصد ہے۔شام 5 بجے تک مہاراشٹر میں 52.49 فیصد، اتر پردیش میں 56.35 فیصد اور بہار میں 54.14 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

شام 5 بجے تک، چوتھے مرحلے میں آندھرا پردیش اسمبلی کی تمام 175 نشستوں اور اوڈیشہ اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی 28 نشستوں پر شام 5 بجے تک بالترتیب 67.99 فیصد اور 62.96 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔اس مرحلے میں 1717 امیدواروں کی قسمت داؤ پر لگی ہے جن کی قسمت کا فیصلہ 17.48 کروڑ ووٹرز کریں گے۔لوک سبھا انتخابات کے پہلے تین مرحلوں میں بالترتیب 66.14 فیصد، 66.71 فیصد اور 65.68 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ یاد رہے کہ پی ایم مودی نے ووٹنگ کے کم فیصد پر کئی بار تشویش کا اظہار کیا،اس بار بھی انہوں نے یہی اپیل تھی کہ ’پہلے ووٹ دیں، پھر ناشتہ کریں‘۔ اس بار ووٹنگ کا فیصد بہت کچھ بتا رہا ہے۔

بہرام پور لوک سبھا حلقہ سے ٹی ایم سی امیدوار یوسف پٹھان نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ نوجوان اور خواتین بڑی تعداد میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ایک مثبت ماحول ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں بھاری مارجن سے جیتوں گا۔ اگر مجھے عوام کے لیے قربانیاں دینی پڑیں تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔ میں یہاں لوگوں کے کام کرنے آیا ہوں۔ لوگوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے، وہ یہاں تبدیلی چاہتے ہیں۔حیدرآباد لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی امیدوار مادھوی لتا نے کہا کہ 90 فیصد بوتھس میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ پولیس خواتین کانسٹیبلوں کو ووٹر شناختی کارڈ کے ساتھ چہرے کی تصدیق کرنے کی ہدایت نہیں دینا چاہتی۔ میں نے پولیس افسر سے پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔

کشمیر میں اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ووٹنگ بغیر کسی دباؤ کے ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ جمہوریت کی پہلی فتح ہے۔ ہم بھی ووٹ ڈالنے نکلے ہیں، کوئی دباؤ نہیں۔ کوئی بھی ہو، میں سب سے ووٹ دینے کی اپیل کرتا ہوں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا آپ نے 1987 جیسا ماحول دیکھا ہے؟ ان لوگوں کو پکڑو جنہوں نے ایف آئی آر درج کروائی۔این سی -پی ڈی پی نے جھوٹی ایف آئی آر درج کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر واپس لے لی جائے گی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بی جے پی اور پی ایم نریندر مودی پر بڑا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی اس بار جیت گئے تو مستقبل میں انتخابات نہیں ہوں گے۔ کھرگے یہیں پر نہیں رکے، انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے ہیمنت سورین کو گرفتار کر لیا، آپ اڈانی اور امبانی کو گرفتار کیوں نہیں کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button