بین الاقوامی خبریں

"کشتی، سمندر اور حج: لندن کے چھ مسافروں کا 59 دن کا ایمان افروز سفر”

"سمندر کی موجوں سے گزر کر خانۂ خدا تک: ایک غیر معمولی حج مہم"

مکہ مکرمہ، ۹ جون (اردودنیا.اِن/ایجنسیز):چھ برطانوی شہریوں پر مشتمل ایک منفرد قافلہ، لندن سے کشتی کے ذریعے روانہ ہو کر 59 دنوں بعد جدہ پہنچا اور وہاں سے مناسک حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ یہ بحری سفر یکم اپریل کو شروع ہوا اور ستائیس مئی کو سعودی عرب کے ساحلوں پر اختتام پذیر ہوا۔

ان نوجوانوں کی عمریں 27 سے 47 سال کے درمیان تھیں اور ان کا تعلق مختلف شعبہ جات جیسے آئی ٹی، میڈیا اور سوشل ورک سے تھا۔ اس گروپ میں شامل افراد کے نام عبدالواحد، توصیف احمد، جوڈی میکانٹائر، دبیرالدین، طاہر اختر اور ایاز خان تھے۔ ان کا مقصد محض سفر کرنا نہیں بلکہ ایک روحانی اور ایمان افروز مہم پر نکلنا تھا۔

یورپ، افریقہ اور خلیج سویز سے ہوتے ہوئے جدہ تک کا سفر

یہ قافلہ یورپ اور شمالی افریقہ کے مختلف ساحلی مقامات جیسے کورسیکا، سارڈینیا، سسلی، اور کریٹ سے ہوتا ہوا نہر سویز اور بحیرہ احمر کو عبور کرتے ہوئے جدہ پہنچا۔ جدہ پہنچنے پر سعودی حکام نے پرتپاک استقبال کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

"زندگی بدل دینے والا تجربہ” – کپتان عبدالواحد

اس قافلے کے کپتان عبدالواحد نے کہا:

"یہ سفر میرے لیے زندگی بدل دینے والا تجربہ تھا۔ جب سعودی عرب کے پہاڑ دکھائی دیے تو دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور آنکھیں بھیگ گئیں۔”

انہوں نے بتایا کہ سعودی حکام کی مہمان نوازی اور حج انتظامات مثالی تھے۔

"ہر قدم پر رضاکار، پینے کا پانی، کھانے کا عمدہ بندوبست، ایمبولینس، پولیس، اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موجود تھیں۔ ساری تھکن اتر گئی۔”

"خواب کی تعبیر” – ایاز خان

قافلے کے رکن ایاز خان نے بتایا کہ جب ان کی والدہ کو معلوم ہوا کہ وہ سمندر کے راستے حج پر جا رہے ہیں، تو وہ گھبرا گئیں لیکن خوش بھی تھیں۔

"یہ میرے لیے ایک خواب تھا، جو پورا ہو گیا۔ میری فیملی میں پہلی بار کوئی حج پر گیا، وہ بھی کشتی کے ذریعے۔”

ان کا کہنا تھا کہ

"یہ فیصلہ ایک چیلنج تھا، لیکن حج کے روحانی پہلو کو محسوس کرنے کے لیے ضروری بھی۔”

سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ

قافلے کے ارکان نے اپنے سمندری سفر کی تفصیلات اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، تاکہ فالوورز بھی اس تجربے سے جُڑ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر لمحہ روحانی وسعت اور صبر کا درس دیتا رہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button