بین الاقوامی خبریںسرورق

2027 کا طویل ترین سورج گرہن: ناسا کا اعلان، صدی کا نایاب فلکیاتی منظر اگست میں دکھائی دے گا

چند منٹ کے لیے دن رات میں بدلتا محسوس ہوگا۔

واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی خلائی ادارے ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اگست 2027 میں ایسا غیر معمولی اور تاریخی سورج گرہن رونما ہونے والا ہے جسے ماہرین نے صدی کا طویل ترین اور نایاب فلکیاتی واقعہ قرار دیا ہے۔ فلکیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس درجے کا مکمل سورج گرہن دنیا میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

یہ غیر معمولی منظر 2 اگست 2027 بروز پیر شام 10 بج کر 6 منٹ (UTC) پر شروع ہوگا، جس کے ساتھ ہی چاند کا سایہ شمالی افریقہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف خطوں سے گزرتا ہوا ایک دلکش منظر پیش کرے گا۔

ناسا کے مطابق مکمل اندھیرا جن ممالک میں نمایاں طور پر دیکھا جائے گا ان میں مراکش، الجزائر، تیونس، اسپین، سعودی عرب، یمن، صومالیہ، بحرِ ہند اور بحرِ اوقیانوس کے کئی علاقے شامل ہیں۔ ان خطوں میں چند منٹ کے لیے دن رات میں بدلتا محسوس ہوگا۔

اس سورج گرہن کی سب سے اہم خصوصیت اس کا دورانیہ ہے، جو 6 منٹ اور 23 سیکنڈ پر مشتمل ہوگا۔ یہ اسے 1991 اور 2009 کے بعد دنیا کا سب سے طویل مکمل سورج گرہن بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورانیہ نہ صرف سائنس دانوں کے لیے تحقیق کا سنہری موقع ہے بلکہ شائقینِ فلکیات کے لیے بھی ایک یادگار نظارہ ہوگا۔

فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج، چاند اور زمین کے ایک سیدھ میں آجانے کے باعث سورج کی روشنی چند لمحوں کے لیے مکمل طور پر چاند کے پیچھے چھپ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سورج کا کنارہ چمکتی ہوئی ہیرے کی انگوٹی (Diamond Ring) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس دوران درجہ حرارت میں ہلکی مگر نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور فضا میں ایک غیر معمولی سکوت پیدا ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے پیشگوئی کی ہے کہ یہ گرہن سورج کی بیرونی پرت (Corona) کے مشاہدے، شمسی سرگرمیوں، اور خلائی موسم کی تحقیق کے لیے بے حد اہم ثابت ہوگا۔ عالمی فلکیاتی ادارے اس مقصد کے لیے خصوصی کیمرے اور جدید رصدگاہی آلات نصب کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2027 کا یہ گرہن نہ صرف سائنسی لحاظ سے ایک اہم موقع ہے بلکہ انسانی آنکھ کے لیے بھی ایک ایسا منظر ہے جو شاید موجودہ نسل دوبارہ نہ دیکھ سکے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button