بین ریاستی خبریںسرورق

لوجہاد قانون پر ہریانہ نے اپنے قدم پیچھے لئے

لوجہاد قانون پر ہریانہ نے اپنے قدم پیچھے لئے

نئی دہلی:نام نہاد’لو جہاد‘ کے نام پر اتر پردیش میں بنائے گئے قانون کو عدالت میں چیلنج کئے جانے اور اس قانون کے تعلق سے عدالت کے رخ کو دیکھتے ہوئے ہریانہ نے اپنے قدم پیچھے لے لئے ہیں۔ واضح رہے کہ یوپی کے علاوہ مدھیہ پردیش، ہریانہ اور کرناٹک نے لوجہاد کے خلاف قانون بنانے کی بات کہی تھی مگر اترپردیش میں بنائے گئے قانون پر اٹھنے والے سوالات نے دیگر سرکاروں کو فی الحال اپنے قدم پیچھے لینے پر مجبور کردیاہے۔ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یوپی سرکار کے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے کے بعد ہریانہ سرکار محتاط ہوگئی ہے۔

وہ نہیں چاہتی کہ کوئی ایسا قانون بنائے جو عدالت میں ٹھہر ہی نہ سکے۔ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یوپی سرکار کے قانون پر عدالت کے فیصلے کا انتظار کریگی اور یہ دیکھنے کے بعد ہی اپنا مسودہ تیار کریگی کہ اْس قانون میں کیا خامیاں تھیں۔

واضح رہے کہ بھگوا عناصر کا الزام ہے کہ مسلم لڑکے ایک سازش کے تحت غیر مسلم لڑکیوں کو اپنے عشق میں پھنسا کر شادی کیلئے انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button