سرورققومی خبریں

لو جہاد قانون کی ضرورت کیا ہے؟ سپریم کورٹ کا حکومت سے سوال

بین المذاہب شادیوں پر قانون یا مداخلت؟ لو جہاد قوانین پر سپریم کورٹ کا سوال

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ملک کی مختلف ریاستوں میں نافذ ’لو جہاد‘ اور مبینہ جبری مذہب تبدیلی کے خلاف بنائے گئے قوانین پر سپریم کورٹ نے سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ میں ان قوانین کو چیلنج کرنے والی متعدد عرضیاں اس وقت زیرِ التوا ہیں، جن پر آئندہ ماہ مشترکہ سماعت متوقع ہے۔

اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات جیسی ریاستوں نے ایسے قوانین نافذ کیے ہیں، جن کا مقصد غیر اخلاقی یا زبردستی مذہب تبدیلی کو روکنا بتایا جاتا ہے۔ تاہم ان قوانین کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں اور سماجی و مذہبی تنظیموں نے انہیں عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

اسی معاملے میں آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے قومی صدر جاوید ملک نے سپریم کورٹ میں ایک الگ عرضی داخل کی ہے، جس میں انہوں نے ان قوانین کی کھل کر حمایت کی ہے۔ عدالت نے ان کی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسے دیگر زیرِ التوا عرضیوں کے ساتھ ہی سنا جائے گا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس معاملے کو جنوری کے تیسرے ہفتے میں حتمی سماعت کے لیے فہرست بند کیا جائے گا۔ عدالت نے تمام متعلقہ ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اپنا تفصیلی جواب داخل کریں۔

جاوید ملک نے اپنی عرضی میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ لو جہاد سے متعلق قوانین سماجی امن قائم رکھنے اور جبری مذہب تبدیلی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو ختم کرنے سے سماج میں انتشار پھیل سکتا ہے، اس لیے ان کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب، ان قوانین کو چیلنج کرنے والے عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا استعمال بین المذاہب شادی کرنے والے جوڑوں کو ہراساں کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ قوانین ذاتی آزادی اور نجی فیصلوں میں ریاستی مداخلت کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند اور سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس جیسی تنظیموں نے عدالت کو بتایا ہے کہ ان قوانین کے غلط استعمال کا اندیشہ بہت زیادہ ہے، جس سے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی اور انفرادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین سماجی تناؤ میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا لو جہاد اور مذہب تبدیلی سے متعلق قوانین آئین کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں۔ جنوری میں ہونے والی مشترکہ سماعت کو اس معاملے میں فیصلہ کن تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button