
’’ پسند کی شادیاں پائیدار نہیں ہو تیں‘‘
قیصر محمود عراقی کریگ اسٹریٹ ، کمرہٹی ، کولکاتا
ہمارے یہاں پسند کی شادی کا رواج دن بدن زور پکرتا جا رہا ہے تاہم ان شادیوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ بہت جلد ٹوٹ جا تی ہیں ۔ پسند کی شادیوں کے جلد ہی ختم ہو نے کی کئی وجوہات ہیں جس میں قابل فہرست شادی کر نے والے جوڑے کے والدین اور رشتہ داروں کا سخت رد عمل شامل ہے ۔ والدین کے رد عمل میں اکثر لڑکا اور لڑکی دونوں کو غیرت کے نام پر موت کی نیند سلا دیئے جا تے ہیں ۔ مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی لڑکے یا سسرال کے تیور بدلنا شروع ہو جاتے ہیں اور لڑکی پر طرح طرح کے ظلم ڈھانا شروع کر دیتے ہیں ۔
کشتی جلا کر آنے والی لڑکی کو یہ والدین قبول کر نے کو تیار ہو تے ہیں نہ ہی سسرال والے اس کا مقام دیتے ہیں ۔ عورت چاہے جس روپ میں بھی ہو گھر کی عزت اور غیرت کا نشان ہو تی ہے ۔ عورت کے کر دار سے ہی کسی خاندان کا وقار اور مستقبل وابستہ ہوتا ہے ۔
مذہب اسلام میں پسند کی شادی کے حوالے سے کیا احکامات ہیں اس بارے میں مولویوں کا کہنا ہے کہ نکاح صرف دو افراد کا ایک سماجی بندھن نہیں بلکہ یہ معاشرہ انسانی وجود کی بقا کا ایک بنیادی ستون بھی ہے ۔ نکاح کی اہمیت اور اس کی بنیادی ضرورت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت آدم ؑ کے وقت سے شریعت محمدی ﷺ تک کوئی ایسی شریعت نہیں گزری جو نکاح سے خالی ہو ۔ چنانچہ ہر شریعت میں مرد و عورت کا تعلق ایک خاص معاہدہ کے تحت شروع سے رہا ہے ۔ اسلام نے نکاح میں مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا اختیار دیا ہے اور بالغہ عورت سے بغیر اس کی اجازت کے نکاح کرنے سے منع کیا ہے تا ہم جو لوگ اپنے گھروں سے بھاگ کر اپنی پسند کا نکاح کرتے ہیں اگر وہ نکاح غیر کفو میں ہو تو شر عاً باطل ہے ، ہاں والدین کی اجازت سے جائز ہوگا ۔
شریعت نے جہاں نکاح میں عورت کی پسند اور ناپسند کو ملحوظ رکھا ہے وہاں راستہ بھی دیا ہے کہ تمام معاملات والدین کے ہاتھوں سے سر انجام ہوں ۔ مہذب معاشرہ کسی فرد کی معاشی ، سیاسی اور سماجی حدود کو درست سمت پر متعین کر تا ہے اور پھر اس کی تشکیل میں عورت کی حیثیت اور توقیر کو خاص اہمیت دی جا تی ہے ۔ ہم چونکہ مسلم معاشرہ میں رہتے ہیں جس کی اپنی اقدار ہیں اور بحیثیت مسلمان ان اقدار کی پاسداری کر نا ہمارے فرائض میں شامل ہیں اور جہاں یہ معاشرتی اقدار مغربی اقدار کو اپنا تی ہیں وہاں بگاڑ پیدا ہو تا ہے ۔
ہمارے معاشرے کی اخلاق اقدار کے سامنے پسند کی شادیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بہت بڑا چلینج ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لڑکے اور لڑکی کی شادی کر تے وقت والدین اور بزرگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی رائے کا احترام ضرور کر یں ۔ ہمارا مذہب بھی اس کی اجازت دیتا ہے لیکین جب نوجوان والدین کے سامنے اپنی مرضی کااظہار کر تے ہیں تو والدین بعض اوقات انہیں نادان ، ناسمجھ اور خود سرکہہ کر اپنی مرضی مسلط کر نے کی کوشش کر تے ہیں ۔ اگر ہم اپنے گرد و پیش پر نظر دوڑائیں تو اکثر والدین یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بچے گھر سے اسکول کالج کے علاوہ کہیں نہیں گئے لیکن وہ یہ امر بھول جاتے ہیں کہ کیبل، نیٹ ورک اور مغربی چیلینز نے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر تے ہو ئے لڑکیوں اور لڑکوں کو گمراہی کے اندھیروں میں ڈھکیل دیا ہے ۔
ہمارے یہاں جنریشن گیپ موجود ہے والدین اپنے بچوں کو ان کی پسند کے مطابق اشیاء ، تعلیم ، کھیل ، مشاغل کو مہیا کر دیتے ہیں لیکن انہیں وہ مناسب وقت نہیں دیتے نہ ان کے خیالات ، احساسات ، اور جذبات کو جاننے یا سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں ، جس کی فی زمانہ بہت زیادہ اہمیت اور ضرورت ہے ۔ پسند کی شادی زیادہ پائیدار نہیں ہو تی اس کی وجہہ ایک تو فیصلہ صرف دل کا ہو تا ہے،دماغ کا نہیں ہو تا ، جبکہ شادی شدہ زندگی گزارنے کے لئے مصلحت سے کا م لینا پڑتا ہے ، تنازعات میں کوئی صلح کرانے والا نہیں ہو تا اور ہر روز فریقین احساس کمتری کا شکار ہو تے ہیں ۔
قارئین محترم ! مذہب سے دوری والدین کی مصروفیت اور عدم تو جہی ، گھریلو ماحول اور سب سے بڑھ کر آج کا الیکڑانک میڈیا ،موبائل فونز نے نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں ڈال رکھا ہے ۔ منفی اثرات سے چشم پوشی جرائم کے ساتھ ساتھ رانجھوں اور ہیروں کی تعداد میں بھی اضافہ کر رہی ہے ۔ پسند کی شادی کا انجام اچھا بھی ہو تا ہے اور بُرا بھی ۔ مشاہدے کی بات ہے کہ آج کل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں کورٹ میرج کا رحجان بڑھ رہا ہے ۔ جہاں نوجوانوں کو یہ موقع نہیں ملتا ، وہ خودکشی جیسے اقدام کا سہارا لے کر ایک دوسرے پر مر مٹتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ اکثر ایسی شادیاں نا کامی سے دوچار ہو تی ہیں جن میں والدین کی مرضی کا دخل نہیں ہوتا کیونکہ شادی سے پہلے دونوں کی آنکھوں پر محبت اور وفا کا بھوت سوار ہو تا ہے جو شادی کے فوراً بعد ہی رفو چکر ہو جاتا ہے اور بھیانک نتیجے دیکھنے میں آتا ہے اور بعض اوقات انجام طلاق کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
دراصل نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عمر کے جس دور میں گذر رہے ہو تے ہیں ان میں جذبات و احساسات کاسمندرر موجزن ہو تا ہے لیکن وہ مستقبل کی فکر سے عاری ہو تے ہیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں ، جیسا بیچ بوئینگے فصل بھی تو ویسی ہی اُگے گی ۔



