اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا۔فیس بک پر محبت، عدالت میں شادی، 3 ماہ بعد مقدمہ درج
فیس بک کے ذریعے محبت ہو گئی۔ لڑکی کو پسند آیا تو لڑکے نے نمبر لے کر واٹس ایپ پر چیٹ کی۔ بات آگے بڑھی تو لڑکے نے لڑکی کو بلا کر کورٹ میرج کر لی۔ 3 ماہ بعد جب لڑکی کے گھر میں کوئی فوت ہوا تو لڑکی نے اپنےمائیکہ جانا شروع کردیا۔ لڑکی جیسے ہی اپنے میکے گئی تو شوہر نے اس کا نمبر بلاک کر دیا۔ حالات بگڑنے لگے
لکھنؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ورشا مہیشوری نامی لڑکی اور دلیپ نامی لڑکے کی فیس بک پر دوستی ہوگئی۔ ورشا غازی پور سے اور دلیپ جونپورکے رہنے والے ہیں۔ ان کے درمیان رابطہ بڑھنے کے بعد، انہوں نے اپنے واٹس ایپ نمبرز شیئر کر دیے۔ کچھ دن گپ شپ ہوتی رہی۔ جب آن لائین چیاٹنگ شروع ہوئی تو دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ ایک دوسرے کا نمبر دے کر واٹس ایپ کے ذریعےگھنٹوں چیٹنگ شروع ہو گئی۔ دونوں کے درمیان محبت بڑھ گئی۔جب ورشا نے دلیپ سے چار پانچ دن بات نہیں کی تو وہ جینے مرنے کی قسمیں کھانے لگا۔
ایک دن ورشا نے دلیپ کو بتایا کہ اس کی ماں نے اس کے لیے کہیں شادی طئے کردیا ہے۔پھر کیا تھا فوری دلیپ نے ورشا کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجی اور اسے غازی آباد سے لکھنؤ آنے کو کہا۔ورشا اس کے کہنے کے مطابق لکھنؤ چلی گئی۔ وہاں دلیپ نے ورشا کو اپنی بڑی بہن کے گھر رکھا۔ وہ دونوں کچھ دن اس کے دوست کے گھر پر بھی رہے۔ بعد میں دلیپ نے ورشا کو اپنے آبائی شہر جونپورلے گیا۔ وہاں دونوں نے شادی کرلی۔ شادی کے بعد ورشا اور دلیپ جونپور میںہی رہنے لگے۔
ان کی شادی کے تین ماہ بعد ورشا کو معلوم ہوا کہ مائیکہ میں اس کےرشتہ دار کی موت ہوگئی۔ اس لیے اسے اپنے ماموں کے گھر جانا پڑا۔ وہاں جانے کے بعد اس کی اور دلیپ کے درمیان فون پر کافی بحث ہوئی۔اس کے بعد اس کا نمبر اس کے شوہر اور سسرال والوں نے بلاک کر دیا۔ اس نے بہت کوشش کی کسی طرح مسئلہ حل ہوجائے لیکن ساری کوششیں رائیگاں ہوئی ۔آخر کار دلیپ نے اپنے بہنوئی پیوش کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ وہ طلاق چاہتا ہے۔
ورشا نے جونپور کے بدلاپور پولیس اسٹیشن میں شکایت میں الزام لگایا کہ وہ تین ماہ تک اپنے سسرال کے گھر رہی۔ شادی کے کچھ دن بعد ہی دلیپ اور اس کے رشتہ داروں نے اسے جہیز کا مطالبہ کرتے ہوئے ہراساں کرنا شروع کردیا۔اور اسکی اس کی ماں کی بھی توہین اور بدسلوکی کی گئی ہے۔ تحریر کی بنیاد پر پولیس نے شوہر سمیت 6 افراد (اس کے شوہر کے ساتھ ساتھ سسر دیواکر سنگھ، بھابھی شلپا، نندوئی پیوش، بہنوئی سندیپ اور سسر مہارانی سنگھ) کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر یوگیندر سنگھ نے کہا کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات کی جارہی ہے۔ حقائق کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔پولیس فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔



