محبت کی شادی کا دردناک انجام – جہیز ہراسانی کا شکار سافٹ ویئر انجینئر دیویکا نے خودکشی کر لی
پولیس نے جہیز ہراسانی کا مقدمہ درج کر لیا
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)محبت میں سب کچھ حسین لگتا ہے، لیکن شادی کے بعد زندگی جہنم بن سکتی ہے۔ کچھ ایسا ہی دردناک تجربہ دیویکا نے کیا، جو بالآخر اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور ہوگئی۔پریشانتی ہلز میں سافٹ ویئر انجینئر دیویکا کی خودکشی رائے درگم پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں دیویکا نامی سافٹ ویئر انجینئر نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔اتوار کے روز جھگڑے کے بعد ستییش فلیٹ چھوڑ کر باہر چلا گیا۔ دیویکا نے کئی بار اسے کال کی، مگر اس نے فون نہیں اٹھایا۔ رات دیر سے جب وہ واپس آیا تو دیویکا کے کمرے کا دروازہ بند پایا۔ وہ سمجھا کہ دیویکا سو رہی ہے، اس لیے دوسرے کمرے میں جا کر سو گیا۔پیر کی صبح جب ستییش نے دیویکا کو جگانے کی کوشش کی تو کوئی جواب نہ ملا۔ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے پر اس نے دیویکا کو چھت سے لٹکتا ہوا پایا۔
دیویکا اور اس کے شوہر ستیش کی چھ ماہ قبل گوا میں ایک شاندار ڈیسٹینیشن ویڈنگ ہوئی تھی۔ شادی سے قبل دونوں محبت میں تھے اور شادی کے بعد پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ دونوں ہی ایک معروف آئی ٹی کمپنی میں ملازمت کرتے تھے، لیکن اتوار کی رات دیویکا نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔دیویکا اور ستیش کی محبت کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ شادی سے قبل دونوں نے فلمی انداز میں پری ویڈنگ فوٹو شوٹ کرایا تھا اور گوا میں دھوم دھام سے شادی کی تھی۔ لیکن چھ مہینے کے اندر ہی ایسا کیا ہوا کہ دیویکا نے خودکشی کر لی؟ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ واقعی جہیز کی ہراسانی تھی یا پھر کوئی ذاتی مسئلہ۔
ماں کا الزام: جہیز کے لیے ہراسانی
ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ میاں بیوی کے درمیان تنازعات ہی خودکشی کی وجہ بنے۔ دیویکا کی ماں راما لکشمی نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ ستیش نے محض دولت کے لالچ میں ان کی بیٹی سے محبت کا ڈرامہ کیا اور شادی کے بعد مسلسل جہیز اور جائیداد کے لیے ہراساں کر رہا تھا۔
دیویکا کی والدہ لکشمی نے الزام لگایا کہ شادی کے وقت نقد رقم اور سونے کے زیورات جہیز میں دیے گئے تھے، مگر ستییش مسلسل نظام پیٹ کے فلیٹ اور وقارآباد میں موجود زمین اپنے نام منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ لکشمی نے افسردگی سے کہا۔"میری بس ایک ہی بیٹی تھی، اور میں نے اسے بھی کھو دیا۔ میں اپنی بیٹی کے قاتل کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کرتی ہوں،”
دیویکا اور ستییش کے خاندان کی صورتحال
دیویکا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ اس کے والد کچھ سال قبل انتقال کر گئے تھے۔ دوسری طرف، ستییش کا تعلق منچریال ضلع سے ہے اور وہ بھی اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس کی والدہ کا بھی کچھ سال قبل انتقال ہو چکا ہے اور اس کے والد منچریال میں رہتے ہیں۔
پولیس نے جہیز ہراسانی کا مقدمہ درج کر لیا
رائدورگم پولیس نے ستییش کے خلاف جہیز ہراسانی کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ستییش کا تعلق آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے ہے، جبکہ دیویکا نے بنگلورو کے ایک نامور ادارے سے گریجویشن کیا تھا۔ دونوں کی ملاقات ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کے دوران ہوئی، اور حال ہی میں وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے تھے۔پولیس کے مطابق، گزشتہ کچھ مہینوں سے دونوں کے درمیان معمولی گھریلو مسائل پر اکثر جھگڑے ہو رہے تھے، جس پر دونوں خاندانوں کے بزرگوں نے صلح کرانے کی کوشش بھی کی، مگر مسئلہ حل نہ ہو سکا۔پیر کی شام دیویکا کی والدہ کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے ستییش کو حراست میں لے لیا۔ چونکہ شادی کو سات سال سے کم عرصہ ہوا تھا، اس لیے تفتیش ایک ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے کی۔ پولیس کے مطابق، دیویکا کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد منگل کو اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
دیویکا کی خودکشی کا واقعہ آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کے درمیان بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر شادی کے بعد محبت کیوں ختم ہو جاتی ہے؟ تعلقات میں مسائل کیوں بڑھ جاتے ہیں؟ کیا شادی کے بعد محبت کی خوشبو ماند پڑ جاتی ہے؟
یہ واقعہ ایک بار پھر معاشرتی رویوں پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے، جہاں محبت اور خوشی کا خواب دیکھنے والے جوڑے شادی کے بعد دردناک انجام کو پہنچ رہے ہیں۔
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso



