قومی خبریں

ممبئی کے بعد لکھنؤ کے سیور یج واٹر میں کرونا کی دریافت

ماہر ین نے کہا، پانی سے وائرس پھیلے گا یا نہیں ،یہ تحقیق کا موضوع

لکھنؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اترپردیش میں گنگا اور یمنا ندیوں میں کرونا سے فوت شدگان کی بہتی ہزاروں لاشوں کی تصاویر نے عوام میں سراسیمگی پیدا کردی تھی ، اب اسی تناظر میں چونکا دینے والی خبر تشویش کن ہو سکتی ہے۔واضح ہوکہ ممبئی کے بعد لکھنؤ کے سیوریج واٹر میں کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آیا پانی میں پائے جانے والا انفیکشن پھیلے گا یا نہیں ، یہ ابھی تحقیق کا موضوع ہے ایس جی پی جی آئی کے محکمہ مائیکروبایولوجی کے چیئرپرسن ڈاکٹر اجولا گھوشال کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے بعد انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور عالمی ادارۂ صحت نے ایک تحقیق شروع کی ہے،

اس تحقیق میں پانی میں کورونا وائرس کا پتہ لگانے کے لئے ملک بھر کے مختلف شہروں سے سیوریج واٹرکے نمونے اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ڈاکٹر ا جولا کہتے ہیں کہ ملک میں اس کے سیمپل جانچ کے لئے 8 مراکز بنائے گئے ہیں۔ ان میں یوپی کی لکھنؤ ایس جی پی جی آئی بھی ہے۔ پہلے مرحلے میں لکھنؤ کے ہی 3 جگہوں سے سیوریج واٹر کے نمونے لئے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک مقام پر نمونے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی کے سیوریج میں بھی کورونا وائرس پایا گیا ہے۔ڈاکٹر اجولا گھوشال کہتے ہیں کہ اس وقت کورونا کے اکثر مریض ہوم آئی سولیشن میں ہیں ، اس صورتحال میں ان کا فضلہ سیوریج واٹر میں آجاتا ہے ،

متعدد ممالک میں ہونے والی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ 50فیصدمریض کے فضلات سیوریج واٹر میں آجاتے ہیں ، ایسی صورتحال میں سیوریج واٹر میں وائرس ہونے کے پیچھے کرونا متأثرہ مریض کا فضلہ بھی ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر گھوشال کے مطابق شہر کے پانی میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، لیکن پانی میں موجود وائرس سے انفیکشن پھیلے گا یا نہیں، یہ ابھی تحقیق کا موضوع ہے۔ اس معاملہ میں یوپی کے دوسرے شہروں سے بھی سیمپل جمع کیے جائیں گے، پھر اس کی تحقیق کی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button