لکھنؤ میں بینک آف بڑودہ برانچ سے کروڑوں روپے کی مبینہ ہیرا پھیری، کھاتہ داروں میں شدید بے چینی
"ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی غائب ہو گئی، ہمیں صرف انصاف چاہیے"
لکھنؤ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بینک آف بڑودہ کی ایک برانچ میں کروڑوں روپے کی مبینہ ہیرا پھیری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد کھاتہ داروں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ درجنوں صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بینک کھاتوں سے لاکھوں روپے اچانک غائب ہو گئے، جس کے بعد بینک میں شکایات کا تانتا بندھ گیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ لکھنؤ کے پارا تھانہ علاقے میں واقع شکنتلا مشرا یونیورسٹی کے احاطے میں قائم بینک آف بڑودہ برانچ سے جڑا ہوا ہے۔ متاثرہ کھاتہ داروں کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی رقم کے بارے میں معلومات لینے بینک پہنچے تو انہیں کوئی واضح یا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، بلکہ ملازمین ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔
صورتحال سے دلبرداشتہ متعدد صارفین نے پارا تھانے میں تحریری شکایت درج کراتے ہوئے بینک منیجر اور بعض دیگر ملازمین پر ملی بھگت سے رقم کی ہیرا پھیری کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کھاتہ داروں کا دعویٰ ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک یا دو کھاتوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس واقعے نے اس وقت مزید سنگینی اختیار کر لی جب یہ بات سامنے آئی کہ کچھ عرصہ قبل اسی برانچ میں مشتبہ حالات میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کی شکایت خود بینک انتظامیہ کی جانب سے درج کرائی گئی تھی۔ متاثرہ صارفین کا اندیشہ ہے کہ یہ آگ ممکنہ طور پر اہم دستاویزات کو نقصان پہنچانے یا شواہد مٹانے کی کوشش ہو سکتی ہے، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد بڑی تعداد میں کھاتہ دار اپنے اکاؤنٹس کی جانچ کے لیے بینک پہنچ رہے ہیں، جس کے باعث برانچ میں غیر معمولی ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔ پولیس نے شکایات کی بنیاد پر ابتدائی جانچ شروع کر دی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بینک ٹرانزیکشن ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور متعلقہ دستاویزات کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فی الحال یہ معاملہ لکھنؤ میں بینکنگ نظام پر اعتماد کے حوالے سے ایک سنجیدہ سوال بن کر سامنے آیا ہے، جس پر عوام کی نظریں مرکوز ہیں۔



