لکھنؤ: خواتین سے ٹھگی و استحصال کرنے والا ’فرضی جج‘ گرفتار
ایک بار جب متاثرہ لڑکی شادی کے لیے راضی ہو جاتی تھی، تو وہ یہ کہہ کر پیسوں کا مطالبہ کرتا تھا کہ وہ ایک زمین کا خرید رہا ہے اور رجسٹری کے لیے 20-25 لاکھ کی پڑ رہی ہے
لکھنؤ ، 7اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لکھنؤ میں ایک 40 سالہ شخص کو خواتین کا استحصال کرنے اور ان سے ٹھگی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع پولیس نے دی۔ لکھنؤ پولیس سائبر سیل نے اس ٹھگ کی شناخت وشنو شنکر گپتا کے طور پر کی ہے، جوکہ اخبار میں ’جج‘ کے طور پر شادی کا اشتہار دے کر خواتین کو استحصال اور ٹھگی کا شکار بناتا تھا۔ ملزم وشنو شنکر گپتا قانون سے فارغ التحصیل اور اس نے مختصر مدت کے لیے عدالت میں پریکٹس کی تھی۔ پولیس نے اس فرضی جج کو پکڑنے کے لئے جال بچھایا تھا۔اس معاملہ کے تفتیشی افسر فیروز بدر نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم نے نے طلاق یافتہ یا بیواؤں کو نشانہ بنایا۔ اس نے ایک خاتون کو ٹھگی کا شکار بناتے ہوئے اس سے 43.5 لاکھ روپے نقد، 5 لاکھ روپے کے زیورات اور 3.3 لاکھ روپے کے دو ایپل فون ٹھگ لئے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی۔
پولیس افسر نے کہا کہ گپتا بہت زیادہ نقد رقم اور جائیداد رکھنے کا دعویٰ کر کے متاثرین کو لالچ دیتا تھا۔ ایک بار جب متاثرہ لڑکی شادی کے لیے راضی ہو جاتی تھی، تو وہ یہ کہہ کر پیسوں کا مطالبہ کرتا تھا کہ وہ ایک زمین کا خرید رہا ہے اور رجسٹری کے لیے 20-25 لاکھ کی پڑ رہی ہے۔حال ہی میں حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں اس سلسلے میں ایک معاملہ درج کیا گیا تھا۔ وشنو نے اب تک 15-20 خواتین کو دھوکہ دینے کا اعتراف کیا ہے۔ فیروز بدر نے کہا کہ ملزم کا ہدف بیوہ یا طلاق یافتہ خواتین کے علاوہ متمول خواتین تھیں۔ وہ اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے ذریعے ان سے رابطہ کرتا تھا۔ اپنی پروفائل کی تفصیل میں اس نے اپنے پیشہ کا ذکر بطور جج کیا ہوا تھا۔



