بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

لکھنؤ میں بیوہ کے ساتھ درندگی، مالک مکان کی جانب سے نشہ دے کر زیادتی اور بلیک میلنگ

قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر بنا کر اسے طویل عرصے تک بلیک میل

لکھنؤ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سے خواتین کے خلاف جرائم کا ایک نہایت سنگین اور دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک بیوہ کو اس کے ہی مالک مکان نے نشہ دے کر وحشیانہ تشدد اور عصمت دری کا نشانہ بنایا، جبکہ قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر بنا کر اسے طویل عرصے تک بلیک میل بھی کرتا رہا۔

یہ واقعہ پی جی آئی کوتوالی علاقے کا ہے، جہاں متاثرہ خاتون اپنی ماں اور پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ اطلاعات کے مطابق خاتون کا تعلق نگوہا علاقے کے ایک گاؤں سے ہے، جس نے چار سال قبل سڑک حادثے میں اپنے شوہر کو کھو دیا تھا۔ مالی مجبوریوں کے باعث وہ گزشتہ دو برس سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔

متاثرہ نے بتایا کہ تقریباً دو ماہ قبل اس نے ایشوری کھیڑا میں پال ڈیری کے مالک انکت پال کے گھر ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا۔ 11 دسمبر کو انکت پال کے بھائی کی تلک کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اسے بھی مدعو کیا گیا۔ رات تقریباً نو بجے وہ اپنے کمرے میں واپس آئی، کچھ ہی دیر بعد ملزم ایک عورت کے ساتھ کافی اور کھانا لے کر اس کے کمرے میں پہنچا۔

متاثرہ کے مطابق کافی پیتے ہی وہ بے ہوش ہو گئی، جس کے بعد ملزم نے اس کی عصمت دری کی، اس کے کپڑے اتار کر فحش تصاویر اور ویڈیوز بنا لیں۔ واقعے کے وقت متاثرہ کی ماں اور بیٹی گاؤں گئی ہوئی تھیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے پوری رات اس کے ساتھ درندگی کی۔

ہوش میں آنے پر متاثرہ کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا علم ہوا، جس کے بعد ملزم نے ویڈیوز اور تصاویر دکھا کر انہیں وائرل کرنے کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کے سہارے نہ صرف وہ بار بار زیادتی کرتا رہا بلکہ متاثرہ سے رقم بھی بٹورتا رہا۔

متاثرہ نے ابتدا میں پی جی آئی کوتوالی پولیس سے رجوع کیا، تاہم کوئی کارروائی نہ ہونے پر وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہی۔ بالآخر 2 جنوری کو اس نے وہ کمرہ چھوڑ دیا اور دوسری جگہ منتقل ہو گئی، مگر اس کے باوجود ملزم کی جانب سے فون کر کے دھمکیاں دی جاتی رہیں۔

آخرکار متاثرہ نے ہمت جمع کرتے ہوئے ڈی سی پی ساؤتھ کے پاس تحریری شکایت درج کرائی۔ ڈی سی پی کی ہدایت پر پی جی آئی کوتوالی پولیس نے ملزم انکت پال کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور معاملے کی مکمل تفتیش جاری ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر خواتین کی سلامتی، پولیس کارروائی میں تاخیر اور سماجی نظام میں موجود خامیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، جہاں انصاف تک پہنچنے کے لیے متاثرہ کو طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button