عادل آباد سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ۔ حکام کی جانب سے جانوروں کی ٹیکہ اندازی کا عمل بھی جاری
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بڑے جانوروں میں لمپی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ تلنگانہ کے 32 اضلاع اس کی لپیٹ میں ہیں۔ اگسٹ کے بعد سے ریاست کے تقریباً تمام اضلاع لمپی وائرس کی لپیٹ میں آگئے ہیںاور جانوروں کی اموات کا سلسلہ بھی تھم نہیں رہا ہے۔ ضلع بھوپال پلی کے علاوہ دیگر 32 اضلاع میں لمپی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور گوشت کا بہت زیادہ استعمال ہونے والے شہر حیدرآباد میں بھی جانور متاثر ہورہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے محکمہ افزائش مویشیان حرکت میں آچکا ہے اور وائرس کی روک تھام کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق ریاست میں 7,752 مویشی وائرس کا شکار ہوئے اور تاحال 25 کی اموات ہوئی ہے۔ اس وائرس سے عوامی خوف میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ ریاست میں ایل ایس ڈی کے واقعات میں اضافہ کے بعد عوام کی اکثریت نے گوشت کے استعمال کو ترک کردیا اور ایک دوسرے کو گوشت کے استعمال سے گریز کی تاکید کی جانے لگی ہے۔
بڑے جانوروں میں اس مرض کے اثرات کے متعلق بین الاقوامی سطح پر بھی چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔ جیسا کہ تحقیقی رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ لمپی وائرس جو بڑے جانوروں میں پھیل چکا ہے ایک جانورسے دوسرے جانورکو متاثر کرنے کے علاوہ انسانوں میں بھی پھیل سکتا ہے حالانکہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے سرکاری سطح پر سخت چوکسی اختیار کرلی گئی ہے اوراقدامات بھی جاری ہیں لیکن اس کا تذکرہ نہیں کیا جارہا ہے۔ محکمہ افزائش مویشیان کی جانب سے ریاست میں 5 لاکھ 48 ہزار جانوروں میں ٹیکہ اندازی عمل میں لائی گئی ہے اور انہیں ادویات دی جارہی ہیں۔ مویشیوں کی مارکٹ کو عارضی طور پر بند کردیا گیا اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے تمام احتیاطی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ضلع عادل آباد میں لمپی وائرس کے سب سے زیادہ کیس پائے گئے ۔ تقریباً ڈھائی ہزار جانور عادل آباد میں لمپی وائرس سے متاثر ہیں جبکہ ضلع جوگولامبا میں 1502 اور ونپرتی میں 1,134 کیس ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ کرناٹک کے سرحدی اضلاع ناگر کرنول اور گدوال میں لمپی وائرس پھیل رہا ہے اور ایک تازہ رپورٹ ہے کہ ورنگل اور کھمم میں وائرس پھیل رہا ہے۔ حیدرآباد میں 45 بڑے جانوروں میں معائنہ کے بعد رپورٹ پازیٹیو پائی گئی اور مزید 100 جانوروں کی رپورٹ کا انتظار ہے ۔ جانوروں سے حاصل نمونوں کو بنگلور کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں کو روانہ کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں لمپی وائرس کے واقعات سے شہریوں کے خوف میں اضافہ ہوگیا ہے اور شہر کے بڑے مسالخ پر بھی احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں۔
باوجود ان اقدامات کے شہری گوشت کے استعمال سے پرہیز کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں 20 لاکھ مویشیوں میں ٹیکہ اندازی کیلئے 20 تا25 دن کا نشانہ مقرر کرکے احتیاطی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ریاست میں جملہ 35 لاکھ بڑے جانور ہیں اس کے علاوہ 35 لاکھ بھینس ہیں ۔ آندھرا پردیش میں لمپی وائرس کی روک تھام کیلئے جاری اقدامات کے تحت 80 فیصد بڑے جانوروں میں ٹیکہ اندازی کے عمل کو مکمل کرلیا گیا اور مزید اقدامات کئے جارہے ہیں۔



