ساگر، 28جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مدھیہ پردیش کے ساگر کے ایک نجی اسکول میں کورونا ٹیکہ کاری میں سنگین لاپرواہی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہاں کے جین پبلک اسکول میں ٹیکہ کاری کے دوران 30 بچوں کو ایک ہی سرنج سے ٹیکہ لگا دیا گیا! دراصل اس اسکول میں بچوں کے لیے کورونا ٹیکہ کاری کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا، اس دوران کچھ والدین نے شکایت کی کہ ویکسین لگانے والا ملازم ایک ہی سرنج سے ایک سے زائد بچوں کو ٹیکے لگا رہا ہے۔
اس حساس معاملہ کے منظر عام پر آنے کے بعد انتظامی سطح پر تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے اور اس کی لپیٹ میں محکمہ صحت کے کچھ افسران آ سکتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے فوری طور پر ایک پرائیویٹ نرسنگ کالج کے تیسرے سال کے طالب علم جتیندر اہیروار کے خلاف گوپال گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرا دی ہے، جس نے بدھ کے روز یہاں کے بچوں کو ٹیکے لگائے تھے۔جتیندر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام کی طرف سے صرف ایک ہی سرنج بھیجی گئی تھی اور اسے محکمہ کے سربراہ نے حکم دیا تھا کہ وہ اسی سے تمام بچوں کو ٹیکے لگائیں۔ طالب علموں کے والدین کی طرف سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں جتیندر نے کہا کہ وہ ان افسر کا نام نہیں جانتے، جنہوں نے انہیں ایک ہی سرنج سے ٹیکہ لگانے کو کہا تھا۔
….क्रांतिकारी बहुतई क्रांतिकारी….
2022 में भी एक ही सिरिंज से 30 बच्चों को वैक्सीन लगाने का कारनामा सिर्फ भारतवर्ष में ही संभव है…
वैसे मामला एमपी के सागर का है…जहां के स्वास्थ्य मंत्री @DrPRChoudhary खुद डॉ हैं.. pic.twitter.com/K5ggqv81X2
— Anurag Amitabhانوراگ امیتابھअनुराग अमिताभ (@anuragamitabh) July 27, 2022
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اس بات سے واقف ہے کہ ایک سرنج ایک سے زیادہ لوگوں کو ٹیکہ لگانے کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے، جتیندر نے کہا کہ میں یہ جانتا ہوں، اسی لیے میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا مجھے صرف ایک ہی سرنج استعمال کرنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! یہ کیسے میری غلطی ہے؟ میں نے وہی کیا جو مجھے کرنے کو کہا گیا تھا۔



