
گوالیار،24؍ جون:(اردودنیا/ایجنسیاں) #گوالیار کے علاقے مرار میں دلت #نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی #عصمت دری کے معاملے میں ہائی کورٹ نے لڑکی اور کنبہ کے ساتھ مار پیٹ کرنے اور ملزم کی مدد کرنے کوپولیس کی سنگین حرکت تسلیم کیا ہے اور اس سارے معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مار پیٹ کے ملزم مرار تھانے کے ٹی آئی اجے پوار اور سب انسپکٹر کیرتی اپادھیائے سمیت دیگر پولیس ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ایس پی سمن سومر گجر ، سی ایس پی رامنریش ، ٹی آئی پریتی بھارگاو ، ٹی آئی اجے پوار ، ایس آئی کیرتی اپادھیائے پر انکوائری قائم کرنے کے ساتھ ہی 50 ہزار روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان پانچوں پولیس افسران کو گوالیار چمبل رینج سے باہر بھیجنے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ لڑکی کو ہونے والے نقصانات کی رقم ادا کرنے کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ معاوضے کے لئے متاثرہ الگ سے عدالت میں اپیل کرسکتا ہے۔
سارے معاملے میں اہم بات رہی کہ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر انیل مشرا نے متاثرہ بچی کی جانب سے کیس لڑا ہے۔ معاملہ 31 جنوری کا ہے۔ جب شہر کے نواحی علاقہ مرار تھانہ علاقہ کے سی پی کالونی میں دلت نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا۔
پولیس نے 24 گھنٹوں سے زیادہ عرصے تک اس معاملے میں متاثرہ #لڑکی کی ایف آئی آر درج نہیں کی تھی ، لیکن اس معاملے میں لڑکی کے بیانات نے پولیس کی تشویش میں مزید اضافہ کردیا تھا۔لڑکی نے الزام لگایا تھا کہ مرار پولیس نے اس پر مقدمہ درج نہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا اور اس سے اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ مار پیٹ کی ، جبکہ پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔



