بین ریاستی خبریں

مہاراشٹرا: ڈاکٹر بننے کے ایک ماہ بعد کسان کے بیٹے کی کرونا سے موت

ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹرا کے اورنگ آباد میں راہل پوار ایک ماہ قبل ہی ڈاکٹر بنے تھے۔ انہوں نے یہ خوشخبری 25 اپریل کو اپنے فیس بک پروفائل پر ایک تصویر شیئر کرکے دی ۔ اس کے صرف ایک ماہ بعد 26 مئی کوانہوں نے دنیاکو الوداع کہ دیا، وہ صرف 25 سال کی عمر میں کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے فوت ہوگئے۔ اس کے دوست اب اس کی ٹائم لائن پر اظہار تعزیت کر رہے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق راہل پوار کے والد گنے کی کٹائی کے لئے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر پوار اپنے خاندان میں پہلے ڈاکٹر تھے۔ ڈاکٹر پوار نے لاتور میں مہاراشٹر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ (ایم آئی ایم ایس آر) سے ایم بی بی ایس کے پانچ سال مکمل کئے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ راہل کے بڑے بھائی سچن نے ڈاکٹر بننے میں ان کی مدد کے لئے دسویں کے بعد اپنی تعلیم چھوڑ دی تاکہ وہ باقی رقم سے راہل کی تعلیم مکمل کرنے میں مدد کرسکے۔

اپریل میں اپنا امتحان مکمل کرنے کے فورا بعد ہی نوجوان ڈاکٹر راہل پوار اپنے گاؤں واپس چلے گئے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد انہیں 26 اپریل کو بیڈ ضلع کے ماجلگاؤں کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کی حالت اور بھی خراب ہوگئی، جس کے بعد مئی کے اوائل میں انہیں اورنگ آباد کے ایم جی ایم میڈیکل کالج اور اسپتال لے جایا گیا۔تب تک راہل کے علاج معالجے میں خاندان کے تمام جمع پونجی ختم ہوچکی تھی۔

اس کے بعد دوستوں نے 20 مئی کو سوشل میڈیا پر رقم جمع کرنے کے لئے ایک مہم شروع کی، جس میں بہت سے لوگوں نے مدد کی۔ اس اقدام نے اہلکاروں کی توجہ مبذول کرلی اور میڈیکل ایجوکیشن کے وزیر نے اپنے علاج کی قیمت برداشت کرنے کا بھی اعلان کیا لیکن راہل کی حالت بگڑ گئی۔

اسے مکینیکل وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ کووڈ کے علاوہ نوجوان ڈاکٹر بلیک فنگس (میوکورمائکوسس) کابھی شکارتھا، بالآخر وہ بچ نہ سکا اور بدھ کی شام اس نے آخری سانس لی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button