سرورققومی خبریں

مہارشٹرا میں گاؤرکشکوں نے مسلمان شخص کو نماز کی ٹوپی پہننے اور گائے کے سامنے سر خم کرنے کو کیامجبور

پولیس کی موجودگی میں گاو رکھشکوں کی شرانگیزی: ویڈیو وائرل

مہاراشٹرا/لاتور:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سوشیل میڈیا پر گاؤ رکشکوں کا ایک ویڈیو وائیرل ہوا ہے جس میں وہ میویشیوں کو منتقل کرنے والے ایک مسلم ڈرائیور کو نماز کی ٹوپی پہن کر ایک گائے کے سامنے سرخم کرنے کے لئے پولیس کی موجودگی میں مجبور کررہے ہیں‘ لوگ اس وائیرل ویڈیو پر ناراضگی کا بھی اظہار کرہے ہیں۔مہاراشٹر لاتور میں گاو رکھشکوں نے ایک مسلمان ڈرائیور کو سر پر ٹوپی پہن کر گائے کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا ۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے متاثرہ شخص کو مارپیٹ بھی کی ۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہاں پولیس موجود تھی ۔ سر پر ٹوپی پہننے اور گائے کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے کے ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

بتایایہ جارہا ہے کہ متاثرہ کی ہجوم نے پیٹائی بھی کی جس کی وجہہ سے وہ زخمی ہوگیا۔ واقعہ مہارشٹرا کے لاتور میں پیش اایاہے او رمتاثرہ کو اسپتال میں داخل کیا گیا۔ٹی او ائی کی ایک رپورٹ کے مطابق لاتور سپریڈنٹ آف پولیس(ایس پی) سومیامنڈے نے دو پولیس جوانوں اور تین ہوم گارڈس کے خلاف کاروائی کی شروع کردی ہے جو ویڈیو کلپ میں میویشی منتقل کرنے والے ایک ڈرائیور کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور بدسلوکی کرنے کا واقعہ پیش آتے وقت مبینہ موقع پر موجود دیکھے گئے ہیں۔

منڈے نے ٹی او ائی کو بتایا کہ”ہم نے واقعہ پر سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیا ہے اور ویڈیو میں دیکھائی دینے والے دو پولیس کانسٹبلوں سے ہیڈکوارٹرس کو رپورٹ کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور اسکے علاوہ ان کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات بھی شروع کی ہے۔مذکورہ تین ہوم گارڈس کی تعیناتی بھی منسوخ کردی گئی ہے“۔یک مقامی سماجی کارکن افضل نے بتایا جارہا ہے کہ پولیس میں شکایت کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور پر حملہ کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔

میویشیوں کے ساتھ بے رحمی کی روک تھام ایکٹ کے مختلف دفعات بھی ڈرائیور پر لگائے گئے ہیں۔قریشی کا دعوی ہے کہ”ڈرائیور نے ایک چھوٹے ٹرک میں پاٹوڈانژاد میویشی کی مارکٹ سے 15جانور سوار کئے اور 23اپریل کے روز وہ اوسہ مارکٹ میں اسکو روانہ کرنا تھا۔ان میویشی کی تجارت کے لئے درکار تمام قانونی دستاویزات اس کے پاس موجو د تھے۔مگر مارکٹ پہنچنے سے قبل کچھ لوگوں نے اس کی گاڑی کو روک دیا۔ پولیس موقع پر پہنچی۔

قانونی دستاویزات کی موجودگی کے باوجود ایک FIR میویشیوں کی حفاظت سے متعلق ایکٹ کے تحت اس کے خلاف درج کردی گئی“۔لاتور ایس پی کے مطابق متاثرہ خوفزدہ ہوگیا اور اس کا بلڈپریشر اچانک بڑھ گیا۔رپورٹ میں اس کے حوالے سے کہا گیا کہ ”پولیس نے اس کو اسپتال میں داخل کیا‘ پھر بھی ہم شکایت کا جائزہ لیں گے“۔

متعلقہ خبریں

Back to top button