لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دے کر فروخت، زبردستی شادی کی کوشش ناکام
انسانی اسمگلنگ اور زبردستی شادی جیسے جرائم کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی
ناسک 03 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے ضلع ناسک میں ایک نوجوان خاتون کو نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر دو لاکھ روپے میں فروخت کر دیا گیا اور اس کی مرضی کے خلاف شادی کرانے کی کوشش کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق ست پور تھانہ علاقے کی رہائشی متاثرہ خاتون، جو اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد اپنے کمسن بچے کے ساتھ رہ رہی تھی، سے دو خواتین ایجنٹس رانی اور بھاگی نے رابطہ کیا۔ انہوں نے ایونٹ مینجمنٹ میں ملازمت دلانے کا وعدہ کر کے اس کا اعتماد حاصل کیا۔ بعد ازاں اسے گاڑی کے ذریعے مالیگاؤں کے راستے نندگاؤں تعلقہ کے جاتے گاؤں منتقل کیا گیا۔
الزام ہے کہ وہاں اسے مبینہ طور پر اس کی مرضی کے خلاف نوناتھ کھراڈکر نامی شخص سے دو لاکھ روپے کے عوض زبردستی شادی پر مجبور کیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے 28 فروری کو اپنی والدہ کو موبائل فون کے ذریعے پوری روداد سنائی، جس کے بعد اہل خانہ نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم فوری طور پر گاؤں پہنچی جہاں بڑی تعداد میں مقامی افراد جمع تھے۔ کشیدہ حالات کے باوجود پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ اس معاملے میں دو خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ چھ دیگر ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے کسی بڑے گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
ادھر شہر میں لاپتہ خواتین اور نابالغ لڑکیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر پولیس نے "آپریشن سرچ” کے تحت تیز کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران 79 نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو تلاش کر کے ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں امبڈ، ست پور اور اندرا نگر علاقوں سے تین نابالغ لڑکیوں کے اغوا کی اطلاعات نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور زبردستی شادی جیسے جرائم کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔



