مہاراشٹرا: پرائیویٹ ملازمین کے اوقات کار 10 گھنٹے؟ کابینہ میں تجویز پر بحث
پرائیویٹ ملازمین کے لیے اوور ٹائم اور کام کے اوقات میں اضافہ ممکن
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مہاراشٹر حکومت نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے روزانہ اوقات کار بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ فی الحال ملازمین روزانہ 9 گھنٹے کام کرتے ہیں لیکن محکمہ محنت نے تجویز دی ہے کہ یہ وقت بڑھا کر 10 گھنٹے کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مہاراشٹر شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس (ملازمت کے ضابطے اور سروس کی شرائط) ایکٹ 2017 میں ترمیم کی جائے گی۔ یہ قانون دکانوں، ہوٹلوں، تفریحی مقامات اور دیگر تجارتی اداروں میں ملازمین کے کام کے اوقات طے کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، محکمہ محنت نے یہ تجویز کابینہ کے سامنے پیش کی۔ وزراء نے اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کابینہ نے کہا ہے کہ اس تجویز کی دفعات اور ان کے اثرات کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
تجویز کے مطابق روزانہ 9 گھنٹے سے بڑھا کر 10 گھنٹے کام کرانے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ملازم مسلسل 6 گھنٹے کام کرتا ہے تو اسے لازمی طور پر آدھے گھنٹے کا وقفہ دینا ہوگا، جبکہ فی الحال یہ حد 5 گھنٹے ہے۔
اوور ٹائم کی حد بھی بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ موجودہ ضابطے کے مطابق ایک ملازم تین ماہ میں صرف 125 گھنٹے اوور ٹائم کر سکتا ہے، لیکن نئی تجویز میں اسے بڑھا کر 144 گھنٹے کیا جائے گا۔
یومیہ کل کام کے اوقات (اوور ٹائم سمیت) فی الحال 10.5 گھنٹے ہیں۔ تجویز کے مطابق یہ وقت بڑھا کر 12 گھنٹے کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ضرورت پڑنے پر یومیہ 12 گھنٹے سے زیادہ کام کرانے کی پابندی بھی ختم کی جا سکتی ہے۔
یہ تبدیلیاں صرف ان اداروں پر لاگو ہوں گی جہاں 20 یا اس سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں۔ فی الحال یہ قانون 10 یا اس سے زیادہ ملازمین والے اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔
محکمہ محنت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز انڈسٹری کی دیرینہ مانگ کو پورا کرنے کے لیے لائی گئی ہیں۔ تاہم کابینہ میں ابھی بات چیت جاری ہے اور کسی بھی فیصلے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔



