
ممبئی ، 10جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹر میں راجیہ سبھا کی چھ سیٹوں پر ہونے والے انتخابات میں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے دو ایم ایل اے مہا وکاس اگھاڑی کی حمایت میں ووٹ دیں گے۔پارٹی کی مہاراشٹر یونٹ کے صدر اور اورنگ آباد کے ایم پی امتیاز جلیل نے جمعہ کو ووٹنگ سے قبل اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرکے یہ جانکاری دی۔انہوں نے ٹویٹ میں بتایا کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ہماری پارٹی نے مہاراشٹر میں راجیہ سبھا انتخابات میں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایم پی امتیاز جلیل نے کہا کہ تاہم شیوسینا کے ساتھ ہمارے سیاسی/نظریاتی اختلافات جاری رہیں گے، جو کانگریس اور این سی پی کے ساتھ ایم وی اے میں شراکت دار ہے۔ہم نے دھولیہ اور مالیگاؤں کی ترقی سے متعلق کچھ شرائط رکھی ہیں۔ حکومت سے ایم پی ایس سی میں اقلیتوں کے لئے جگہ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ممبران کی تقرری اور مہاراشٹر وقف بورڈ کی آمدنی بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا اور مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا بھی مطالبہ کیا۔
ہمارے دو ایم ایل اے سے راجیہ سبھا سیٹ سے کانگریس کے امیدوار عمران پرتاپ گڑھی کو ووٹ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ میں اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔بتا دیں کہ آج مہاراشٹر میں راجیہ سبھا کی چھ سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں پہلی بار سات امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔حکمراں شیو سینا نے دو امیدوار سنجے راوت اور سنجے پوار کو میدان میں اتارا ہے۔ اپوزیشن بی جے پی نے تین امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے-
مرکزی وزیر پیوش گوئل، انیل بونڈے اور دھننجے مہادک بی جے پی کے امیدوار ہیں۔حکمراں اتحادی پارٹنر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس نے ایک ایک امیدوار پرفل پٹیل اور عمران پرتاپ گڑھی کو نامزد کیا ہے۔راجیہ سبھا سیٹ جیتنے کے لیے امیدوار کو 42 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔شیوسینا کی زیر قیادت مہا وکاس اگھاڑی کے پاس راجیہ سبھا کی چھ میں سے تین سیٹیں جیتنے کی تعداد ہے جس کے لیے 288 ایم ایل اے ووٹ ڈالیں گے۔
بی جے پی، جس کے اسمبلی میں 106 ارکان ہیں، اپنے طور پر دو جیت سکتی ہے ، لیکن اس نے چھٹی نشست کے لیے شیوسینا کے سنجے پوار کے خلاف تیسرے امیدوار دھننجے مہادک کو کھڑا کیا ہے۔جبکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کا ایک ایک امیدوار پرفل پٹیل اور عمران پرتاپ گڑھی بھی اس سیٹ کے لیے دوڑ میں ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ سیٹ کس کے حصہ میں جاتی ہے۔



