
آزاد عباس چوگلے
میاں بیوی کا رشتہ اس ارض مقدس پر پہلا باوقار و مقدس رشتہ ہے جو باہمی اعتقاد اور اعتماد پر مبنی ہے ۔ اس رشتہ کی بنیاد نکاح ہے مگر نکاح (marriage) سے زوجہ کی عصمت حلال نہیں ہوتی بلکہ ایک مخصوص قسم کا تحفہ اپنی معاشی حیثیت کے مطابق بخوشی زوجہ کو ادا کرنا ہوتا ہے ۔ یہ وہ مال ہے جووقتِ نکاح اپنی ہونے والی زوجہ کے لیے واجب ہوجاتا ہے ۔ یہ ضیا افروز مہر عورت کی زندگی کا اولین حق ہے ۔ جس میں کسی کی بھی شمولیت نہیں جیسے قریب ترین افراد۔والد ، والدہ ، شوہر یا اولاد۔ بس وہ اِس حق زوجیت کو کبھی بھی کہیں بھی استعمال کرسکتی ہے ۔
مہر وہ مال ہے جیسے روپیہ ، سونا چاندی یا شوہر کی طرف سے پیش کردہ زمین جائیداد یا کچھ اور۔ بس مہر کی صورت میں لینی ہے اور کتنی لینی ہے صرف لڑکی کا ہی فیصلہ ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں کئی جگہوں پر والدین طئے کرتے ہیں کہ کتنی مہر (Maher) لینی ہے کب لینی ہے ۔ فیصلہ کرنے کے بعد لڑکی کو آگاہ کیا جاتا ہے جو سراسر غلط ہے ۔
کئی جگہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکی کی تعلیم کچھ کم ہونے کی وجہ سے لڑکے والے کم مہر دینے کا فیصلہ کرتے ہیں جبکہ اُصول یہ ہے کہ لڑکے کی اقتصادی حالات دیکھ کر اپنی مہر کا مطالبہ کرنا ہوتا ہے جو لڑکے والوں کے بساط میں ہو۔ ورنہ رشتہ بننے سے پہلے ہی بگڑ جائے گا۔ رسول ؐ کا فرمان ہے کہ ’’مہر کو نکاح کی رکاوٹ نہ بناؤ بلکہ اتفاق رائے فیصلہ کرو‘‘ ۔
مہر ادا کرنے کی کم سے کم مقدار مقرر ہے جو لڑکے والے کے معاشی حالات پر مبنی ہے مگر زیادہ دینے یا مقرر کرنے میں کوئی حد مقرر نہیں ہے یہ تحفہ ہی تو ہے جسے زیادہ دینے سے دلہن اور اُس کے اہل خانہ خوش ہوں گے اور دعائیں دیں گے ۔ کچھ دینی مصنفین نے اسے ایک مختصر تحفہ و نمونۂ تحفظ قرار دیا ہے جسے انکار یا اقرار کرنے کا حق دلہن کا ہی ہے ۔
قرآن پاک میں (سورۃ نساء ۔ آیت۴) اور احادیث میں کثرت سے ذکر موجود ہے کہ مہر کی ادائیگی ضروری ہے ۔ خود آپؐ نے بھی نبوت سے قبل اور نبوت کے بعد کی اپنی ازواج کی مہر ادا کی اور تاکید فرمائی کہ اسے ہر کوئی اپنی زوجہ کو دے۔ مہر نکاح کے واجبات میں اوّل ہے ۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا’’ جو بھی مرد کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر کے ساتھ نکاح کرے اور اس کا ارادہ دینے کا نہ ہوتو اُس نے دھوکا دیا اور ایسی حالت میں سپرد خاک ہوا تو وہ اللہ سے زانی کی شکل وصورت میں ملاقات کرے گا۔‘‘
عربوں میں آپؐ کے زمانے سے پیشگی اور نقد #مہر ادا کرنے کا دستور رہا ہے جو تقریباً تقریباً آج بھی چل رہا ہے ۔ یہاں زیادہ تر افراد لڑکی سے مفصل گفتگو کرنے کے بعد لڑکی والوں سے طئے کرتے ہیں پیشگی مہر ملنے کی شکل میں دونوں خاندان کے لوگ لڑکی کے لیے اُس کی پسند کے زیورات خریدتے ہیں بعد ازاں دولہے والے اُن ہی زیورات میں یا اُن ہی ملبوسات میں اپنے گھر میں تہہ دل سے استقبال کرتے ہیں۔ یہ عمدہ اور آسان طریقہ تقریباً پورے عربستان میں ہے ۔
مقدس نکاح سے قبل جو عمل حرام ہوتا ہے وہ بعد نکاح حلال ہوجاتا ہے ۔ اس کی بزرگی اور کامل شرف کو ظاہر کرنے کے لیے مہر مقرر کی گئی ہے یعنی حلال اور حرام کے درمیان کا واسطہ جو نکاح کے ذریعے ایک مقدس و معتبر رشتہ کو وجود میں لاتا ہے ۔ نکاح کے اپنے کچھ فرائض ہیں مگر مہر اُس کا بنیادی رکن ہے جس میں لچک ہے مگر انکار بالکل نہیں ہے ۔ #رسولؐ نے ایک چھوٹی سی آیت کو بھی مہر قرار دیا ہے کیوں اُس شخص کے پاس دینے کو کچھ بھی نہ تھا ۔ کئی جگہ پر اس کی کم سے کم مقدار دس درہم بھی رکھی گئی ہے یعنی تقریباً ڈھائی تولہ چاندی ۔ ویسے مہر کی تین اقسام ہیں جس میں نچلی سطح پر حد مقرر ہے مگر اوپری سطح پر نہیں۔
(۱) مہر معجل : یہ لفظ عجلت سے بنا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں ’جلدی‘ یعنی وہ مہر جو بوقت نکاح نقد یا بشکل زیورات ادا کی جاتی ہے ۔ آج کل معاشرے میں تقریباً سبھی افراد تعلیم یافتہ اور صاحب حیثیت ہیں اس لیے اپنی استطاعت اور اتفاق کے مطابق بوقت #نکاح ادا کرتے ہیں۔ یہ مہر نکاح سے قبل بھی ادا کی جاسکتی ہے اسے عرب حضرات نکاح سے چند روز قبل ادا بھی کرتے ہیں۔
(۲) مہر موجل : یہ لفظ اجل سے ماخوذ ہے جس کی معنی ’مدت‘ یا وقت کے ہیں یہ مہر بیگم کی اجازت سے مدت کا تعین کیا جاتا ہے اور وقت مقررہ میں مطالبہ کرسکتی ہے یہ اُس کا حق ہے ۔ اُس میں تاخیر کرنا مرد کے لیے قطعاً درست نہیں ہے ۔ عورت سے التجاء کرکے کچھ مدت لے سکتا ہے اگر عورت نے فراخ دلی سے یا بغیر دباؤ سے مدت کو ملتوی کرسکتی ہے ۔ اگر مدت سے قبل اُسے ضرورت پڑے تو وہ بھی اپنے شوہر سے مہر کی درخواست کرسکتی ہے مگر زور جبر نہیں کرسکتی۔
(۳) مہر مثل : اس مہر مثل کو ’’مانند‘‘ یا ’’یکساں‘‘ سے متعارف کیا گیا ہے ۔ اس طرح کی مہر تقریباً تقریباً وجود میں نہیں ہے۔ اگر کسی مخصوص وجہ سے نکاح میں مہر کا تذکرہ نہ ہو اور نکاح کی رسم ہوچکی ہوتو دلہن اُس کی زوجیت میں آجاتی ہے مگر دولہا اُس کے قریب نہیں جاسکتا جب تک مہر ادا نہ ہو۔
ایسی صورت میں مہر کی ادائیگی کا وقت آگیا تو دلہن کی قریبی رشتہ دار لڑکی جو قریباً قریباً دلہن جیسی قد و قامت رکھتی ہو ، تعلیم اور حسن میں مساوی ہو اور عمر میں قریب تر ہو تو اُس کی مہر کے مصداق اس نویلی دلہن کو مہر دینا ہوگی۔ بہن میں چاچا زاد کو ترجیح ہے ورنہ ماموں زاد یا خالہ زاد بہن کی مہر سے اتفاق کیا جاسکتا ہے ۔ وہ مہر دو لاکھ بھی ہوسکتی ہے یا دو ہزار بھی ہوسکتی ہے ۔ اس میں کم و بیش کی گنجائش نہیں ہے ۔
مہر کی ادائیگی کی شروعات تخلیق کائنات سے ہوئی اس کی ادائیگی کی شرح و قوانین خو د کاتب تقدیر نے ایک مخصوص طریقہ سے طئے کئے جس میں نچلی سطح کی قید رکھی اور ازحد ضروری قرار دیا۔ ایک عالم دین نے اپنی تقریر میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو مہر دینے کا حکم دیا تو جواباً آدمؑ نے کہا میں بے سر و سامان ہوں میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے خوش خبری کے ساتھ یہ حکم دیا کہ تمہاری نسل میں میرا حبیب جنم لینے والا ہے اُن پر ایک درود ہی پڑھو۔
یہ تمہاری ادا کردہ مہر ہوگی (آدمؑ کے لیے کہی گئی عبارت کی تصدیق کسی تصنیف سے نہیں ہے ) علاوہ مہر کی وقعت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی عورت بغیر مہر لیے ہوئے مرجائے جس کا علم اُس کے اہل خانہ کو ہو یعنی مہر معجل ہو تو وراثت تقسیم کرتے وقت اُس کی مہر کو ملا کر تقسیم کی جائے اور اگر اُس کامیاں بغیر مہر ادا کیے ہوئے رحلت فرما جائے تو جب کبھی اُس کی وراثت تقسیم کرنے پر اتفاق ہوجائے تب سب سے پہلے اُس عورت کی مہر ادا کی جائے یعنی وہ مہر معجل ہے ۔
آج کے اس مہذب دور میں ہمیں اپنے قبول شدہ مہر کو اپنے کابین نامہ(Agreement) میں درج کرنا چاہئے ۔اس بات کو #دل کی عمیق گہرائی سے تسلیم کرنا چاہئے کہ جو #لڑکی بیس بائیس #سال کی #عمر میں اپنے میکے سے اپنے #سسرال آتی ہے تو اُسے ہم آہنگ ہونے میں اگر دیر لگے تو نہایت ہی سمجھداری سے پیش آنا چاہئے ۔
شادی سے قبل اُسے سنبھالنا اُس کے #والد و #بھائی کا #فرض تھا مگر شادی کے بعد اُسے تادم حیات تک سنبھالنا اُس کے اپنے مرد و بیٹے کا فرض ہے ۔ آخرش حاصل گفتگو یہ کہ مہر ہر حال میں ادا کرنا ہے ۔



