سرورقگوشہ خواتین و اطفال

مہر عورت کا حق ہے-محمد ہاشم القاسمی خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ "اسلام میں نکاح کے وقت عورت سے اس کی مرضی پوچھی جاتی ہے، اس سے اجازت لی جاتی ہے، اس کو مہر دیا جاتا ہے۔ یہ ہمیں بڑا اچھا لگتا ہے۔"

شریعت نے "مہر” کو عورت کا لازمی حق قرار دے کر ازدواجی زندگی کی اہمیت اور عزت نفس کی قدر و قیمت کو بڑھا کر یہ احساس دلایا ہے کہ نکاح ایک پاکیزہ معاہدہ ہے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا مشترکہ سنت نکاح جنسی تعلق قائم کرنے کا ایک جائز معاشرتی طریقہ ہے۔ نکاح کے نتیجے میں جس طرح مرد کی جنسی خواہش پوری ہوتی ہے، اسی طرح عورتوں کو بھی جنسی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ اسلام کا عورت کو یہ اعزاز ہے کہ اس نے عورت کو مہر کا حق دیا۔ مہر کوئی فیس نہیں ہے، کوئی چارج نہیں ہے۔ وہ تو عورت کا اعزاز ہے۔ جو کسی اور مذاہب میں عورتوں کو یہ اعزاز حاصل نہیں، اس کی عظمت اور خوبی کو دوسرے مذاہب کے لوگ بھی محسوس کرتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ "اسلام میں نکاح کے وقت عورت سے اس کی مرضی پوچھی جاتی ہے، اس سے اجازت لی جاتی ہے، اس کو مہر دیا جاتا ہے۔ یہ ہمیں بڑا اچھا لگتا ہے۔” مرد پر یہ لازم کیا گیا کہ وہ عورت کو خرچ دے، نفقہ دے، اس کو رہنے کے لئے مناسب مکان دے عورت چاہے جتنی مال دار ہو، اس کے باپ کھاتے پیتے گھر سے تعلق رکھتے ہوں، چاہے شادی کے بعد بھی اس کے باپ نے اس کو اچھی خاصی پراپرٹی اس کو دی ہو۔ اس کے باوجود اس کو اپنے شوہر سے نفقہ مانگنے کا حق حاصل ہے۔

مہر نکاح کے واجبات میں سے ہے، ﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے”اور تم بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو۔” ( النساء تفسیر ماجدی ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ’نحلہ‘ کا ترجمہ فریضہ سے کیا ہے اور ایک معروف عالم لغت نے کہا ہے کہ عربی زبان میں نحلہ، واجب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ؛ (تفسیر ابن کثیر ) اس لئے مہر کا مقرر کرنا اور اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص مہر نہ دینے کی شرط پر نکاح کرلے، تب بھی عورت کا خاندانی مہر ( مہر مثل) واجب ہوگا اور امام مالک کے یہاں تو ایسی صورت میں نکاح ہی منعقد نہیں ہوگا ۔ مہر کی کم سے کم مقدار حنفیہ کے نزیک دس درہم ہے ، ( بدائع الصنائع )اگر کسی شخص نے اس سے بھی کم مہر مقرر کیا، تو اس کا اعتبار نہیں ، ایسی صورت میں بھی کم سے کم دس درہم کے بقدر مہر واجب ہوگا ، (درمختار ) کیونکہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہئے ( سنن بیہقی ) دس درہم کی مقدار موجودہ اوزان میں تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام چاندی ہوتی ہے ۔

امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار چوتھائی دینار سونا یا تین درہم خالص چاندی ہے ، (الشرح الصغیر، مواہب الجلیل ) چوتھائی دینار کا وزن موجودہ اوزان میں (تقریباً 4 ماشہ سونا ) اور تین درہم کا 11 ؍گرام کے قریب ہوتا ہے ، امام مالک رحمہ اللہ نے بھی بعض احادیث کو ملحوظ رکھا ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک کم ترین مقدار مہر کی کوئی حد نہیں ، کم سے کم جو چیز قیمت یا اُجرت بن سکتی ہو، وہ مہر بھی ہوسکتی ہے۔ ( شرح مہذب ) لیکن اس پر اتفاق ہے کہ زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی مقدار متعین نہیں، کیوںکہ قرآن مجید میں مہر کے لئے” قنطار” کا لفظ وارد ہوا ہے ، (النساء ) جس کے معنی بہت زیادہ مال کے ہیں، "وہو المال الکثیر” ( دیکھئے تفسیربغوی ) حضرت عبدﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم یا ایک ہزار دینار کو ’ قنطار ‘ قرار دیا ہے۔ (سنن بیہقی ) جو نہایت خطیر رقم ہوتی ہے ۔

مہر کے صحیح ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں،

(1) مہر مالِ متقوم ہو یعنی جس کی قیمت لگائی جا سکے۔ ایسی معمولی شے جس کی کوئی قیمت نہ ہو جیسے گندم کا ایک دانہ وغیرہ مہر نہیں ہو سکتا۔

(2) مہر پاک شے (حلال) ہو جسے استعمال میں لانا درست ہو۔ لہٰذا مہر میں شراب، سور، خون یا مردار دینا جائز نہیں کیونکہ شریعت اسلامیہ کی نگاہ میں ان اشیاء کی کوئی مالیت نہیں۔

(3) مغصوب نہ ہو یعنی غصب کردہ مال نہ ہو۔ اگر غصب شدہ مال کو مہر قرار دیا تو یہ درست نہ ہوگا، تاہم عقد نکاح درست ہوگا اور حقیقی مالک کی اجازت سے عورت اس کی حق دار ٹھہرے گی ورنہ متعین مال کی قیمت کے برابر مال مہر کی حق دار ہوگی۔

(4) صحتِ مہر کے لیے ضروری ہے کہ وہ مہر واضح ہو کہ کتنا مہر مقرر ہوا ہے۔
مہر کی درج ذیل اقسام ہیں:

(1) مہر مسمّی (2) مہر مُعَجَّل (3) مہر مُؤجَّل (4) مہر مُطْلق (5) مہر منجم (6) مہر مثل.

مہر مسمی، اس مہر کو کہتے ہیں جس کی مقدار زوجین کے درمیان متعین و مقرر ہو۔ معجل کا لفظ ’عجل‘ سے ہے، جس کا معنی ’جلدی کرنا‘ اور ’سبقت کرنا‘ کے ہیں۔ اِصطلاحی طور پر "مہر معجل” سے مراد ایسا مہر ہے جو بوقتِ نکاح فوری ادا کر دیا جائے یا بیوی کے مطالبہ پر ادا کرنا لازم ہو۔(ابن منظور، لسان العرب) اور مؤجل کا مادہ ’اجل‘ ہے اور اَجّلَ الشیٔ سے مراد کسی چیز کی مدت مقرر کرنا یا مہلت دینا ہے۔ اس طرح "مہرِ مؤجل” سے مراد ایسا مہر ہے جس کی ادائیگی کے لیے فریقین کے مابین میعاد مقرر کی گئی ہو، مثلاً سال یا دو سال وغیرہ اور اگر کوئی مدت معین نہ کی جائے تو پھر یہ طلاق یا زوجین میں سے کسی ایک کی وفات پر قابلِ ادائیگی ہوتا ہے۔ اور اسی کو معاشرے میں "دَین مہر” کہتے ہیں (ابن منظور، لسان العرب،)

"مہر مطلق” وہ ہے جو نہ معجل ہو نہ مؤجل یعنی زوجین کی باہمی رضا مندی سے اس کی ادائیگی شوہر جب چاہے کر سکتا ہے۔ اس قسم کے مہر کی وصولی کے لیے بیوی شرعی طور پر مُجاز نہیں کہ وہ اپنے نفس کو شوہر سے روکے رکھے۔ ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مہر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ اس طرح کہ مہر کی مقدار اتنی زیادہ مقرر کردی جائے کہ مرد کبھی بھی اپنی عورت کو طلاق دینے کی ہمت نہ کر سکے اور خدا نخواستہ اگر طلاق دیتا ہے تو بطور جرمانہ اسے یہ بھاری بھرکم رقم ادا کرنی پڑیگی، یہ طریقہ قرآن کریم اور احادیث کی روح کے بالکل خلاف ہے۔

منجم، کا مادہ نَجَمَ ہے جس کا معنی قرض کو قسطوں میں ادا کرنا ہے۔ "مہر مُنْجِم” سے مراد ایسا مہر جس کے متعلق زوجین میں یہ طے پایا جائے کہ اس کی ادائیگی یک مشت نہیں بلکہ قسط وار ہوگی۔

مہر مثل، سے مراد وہ مہر ہے جو عورت کے باپ کی رشتہ دار عورتوں مثلاً پھوپھیوں، سگی بہنوں اور چچا زاد بہنوں کو دیا گیا ہو۔ مہر مثل کے تعین کے لیے جہاں عورتوں کی عمر، حسن و جمال، علم و عقل، دین داری اور کردار کا لحاظ کیا جائے گا، وہیں ان عورتوں کے شوہروں کے حسب اور مال کو بھی دیکھا جائے گا۔ علاوہ ازیں مندرجہ بالا چیزوں کے اختلاف سے مہر میں بھی اختلاف ہوگا۔

واضح رہے کہ "مہر مثل” اس وقت واجب ہوتا ہے جب نکاح میں مہر کا قطعاً ذکر نہ کیا گیا ہو یا ذکر ہو لیکن وہ مبہم (نامعلوم) ہو یا مہر میں ایسی چیز رکھی گئی ہو جو شرعاً حلال نہ ہو۔ علاوہ ازیں نکاح فاسد میں اگر مباشرت ہو جائے تو مہر مثل کا حکم ہے، خواہ مہر مقرر کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔ اگر مہر مقرر ہو تو چاہیے کہ مہر مثل کی مقدار اس طے شدہ مہر سے زیادہ نہ ہو، ورنہ مہر طے شدہ ہی واجب الادا ہوگا۔

جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی لیکن نہ تو مہر مقرر کیا اور نہ ہی مباشرت کی اور پھر وہ فوت ہوگیا (تو اس کا کیا حکم ہے؟) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے خاندان کی دوسری عورتوں کے برابر اس کا مہر ہوگا (یعنی مہر مثل)، نہ کم ہوگا اور نہ زیادہ۔ اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے ترکہ بھی ہے۔ معقل بن سنان اشجعی نے اٹھ کر کہا ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا۔( ترمذی شریف)

بعض معاشرے میں شوہر کے انتقال کے بعد عورت کو گھر کی چند عورتیں پکڑ کر میت کے سامنے لے جا کر اس سے مہر معاف کرواتی ہیں، یہ صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح معاف ہوتا ہے. اسی طرح اگر عورت کا انتقال ہوگیا اور اس کے شوہر نے بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تو اب وہ مہر کی رقم اس عورت کے وارثین پر تقسیم کیا جائے گا اس کا ایک وارث اس کا شوہر بھی ہوگا،

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی صاحبزادیوں کا مہر پانچ سو درہم یا اسکے قریب مقرر فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اکثر ازواجِ مطہرات کا مہر بھی یہی تھا۔ پانچ سو درہم کی ایک سو اکتیس تولے تین ماشے131 ¼ ﴾ چاندی بنتی ہے ﴿قیمت کی کمی بیشی کے مطابق اس مقدار میں کمی بیشی ہو سکتی ہے بہر حال 131 ¼ تولے چاندی کا حساب رکھنا چاہیئے﴾ اسی کو مہر فاطمی کہا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اس سے بہت کم اور بہت زیادہ بھی مہر باندھے جاتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادیوں اور ازواجِ مطہرات والے مہر کی پابندی ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔

مشرکین عرب کے ہاں مہر کے متعلق تین قسم کا ظلم کیا جاتا تھا

پہلا ظلم، لڑکی کے اولیاء لڑکی کے شوہر سے مہر خود وصول کرکے اس پر قبضہ کر لیتے اور اس میں سے لڑکی کو کچھ نہ دیتے تھے، جو سراسر ظلم تھا۔

دوسرا ظلم: بہت سے شوہر یہ سمجھ کر کہ بیوی ان سے مجبور ہے اور ان کی مخالفت نہیں کر سکتی ،لہٰذا وہ بیوی پر دباؤ ڈال کر ان سے مہر معاف کرا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اقوال اور اپنے عمل سے مذکورہ بالا دونوں برائیوں کی تردید فرمائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک حدیث مبارک میں ارشاد فرمایا. جس نے نکاح کیا اور مہر مقرر کیا، لیکن اس کے دل میں ہو کہ وہ مہر ادا نہیں کرے گا ،تو اللہ تعالیٰ کے یہاں و ہ زانی شمار ہوگا، ایک اور روایت میں یہ بات مزید زور دے کر کہی گئی ہے کہ جس نے کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں یہ ہے کہ وہ اسے اس کا مہر نہیں دے گا ،تو اس نے دھوکہ بازی کی ، اگر اس کا انتقال ہو گیا اور اس وقت تک اس نے اس کا حق ادا نہیں کیا ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ایک زانی شخص کی حیثیت سے اس کی ملاقات ہوگی.

تیسرا ظلم: مشرکین عرب پہلے تو مہر دیتے نہیں اور اگر کسی کو مجبور ہوکر مہر دینا پڑ جاتا تو بہت تلخی کے ساتھ بادلِ ناخواستہ تاوان سمجھ کر دیتے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عمل کی بھی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: کسی شخص کے لئے دوسرے کا مال اس وقت تک حلال نہیں ، جب تک وہ اپنے دل کی خوشی سے اس کی اجازت نہ دے ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کے نزدیک جب بیوی اپنی خوشی کی بجائے شوہر کے دباؤ میں آکر مہر معارف کرے تو یہ معافی معتبر نہیں ہوگی اور مہر کی ادائیگی شوہر کے ذمے واجب الادا رہے گی.

ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مہر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ اس طرح کہ مہر کی مقدار اتنی زیادہ مقرر کردی جائے کہ مرد کبھی بھی اپنی عورت کو طلاق دینے کی ہمت نہ کر سکے اور خدا نخواستہ اگر طلاق دیتا ہے تو بطور جرمانہ اسے یہ بھاری بھرکم رقم ادا کرنی پڑیگی، یہ طریقہ قرآن کریم اور احادیث کی روح کے بالکل خلاف ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button