سرورقکیریئر اور رہنمائی

فزیو تھیراپی میں بھی اپنا مستقبل بنائے

(مومن فیاض احمد غلام مصطفی، ایجوکیشنل و کرئیر کونسلر،  صمدیہ ہائی اسکول و جونیر کالج بھیونڈی)

 فزیو تھیراپی کیا ہے؟:#میڈیکل #سائنس کے مختلف شعبہ ہونے کی وجہ سے پیرا میڈیکل کورسیس کو بھی بہت ترقی حاصل ہو رہی ہے۔فزیو تھیراپی کا بھی شمار پیرا میڈیکل میں ہوتا ہے۔ ایسے طلبہ جو ڈاکٹرکے پیشے سے #دلچسپی رکھتے ہوں اور کسی وجہ سے اس کورس میں داخلہ نہ ملا ہو وہ یہ کورس کر کے اپنا کر یئر بنا سکتے ہیں ۔اس #کورس کی زبردست مانگ ہے ۔
جن طلبہ کے پاس محنت اور مشقت کا جذبہ ہو، مریضوں کو اپنا بنانے کا فن ہو، ملنسار ہونے کے ساتھ تما م لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہنے والوں کے لیے یہ میدان فائدے مند ہے۔ یہ کورس کرنے والوں کی #میڈیکل فیلڈ میں بہت ڈیمانڈ ہے اور آمدنی بھی  اچھی خاصی ہے۔ کسی بھی #پیشے میں کرئیر بنانے کے لیے جدو جہد بہت ضروری ہے۔
اسی طرح سے کوئی بھی پیشہ بڑا یا چھوٹا نہیں ہے آپ کو اپنے پیشے میں ایماداری و دیانتداری کے ساتھ کام کرنا ہے۔فزیوتھیراپی کورس کرنے کے بعد آپ ڈاکٹر ہی کہلائیں گے۔محنت کرنا بندے کے ہاتھ میں ہے شفا دینا اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ بڑے بڑے #اسپتالوں میں فزیو تھیراپست کے لیے الگ شعبے قائم ہیں ۔
 کیا سکھایا جاتا ہے:؟اس کورس  کے ذریعے ایسے افراد جو معذور ہیں مثلاً لقوہ، فالج،اعصاب، رگوں، پٹھوں یا ہڈیوں میں درد، بڑھتی ہوئی عمر میں ہڈیوں کا کمزور ہونا، حادثہ کے شکار افراد، اپاہج، دماغی طور پر کمزور اس قسم کے تمام مریضوں کو ایک خاص قسم کی ورزش کرائی جاتی ہے۔ کبھی کبھی انہیں الکٹرک شاک (کرنٹ) ، ویو ڈء تھرمی، الٹراوائلیٹ لائٹ، مساج کروانا، اور وزن اٹھا کر ورزش کروائی جاتی ہے۔
دماغی امراض، دل کی بیماریاں، کینسر کی #بیماریوں میں ،عام طور پر جوڑوں کے آپریشن کے بعد فزیو تھراپسٹ کی ضرورت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی کرونک بیماریوں میں فزیوتھراپسٹ کے ذریعے کافی اچھے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ فزیو تھیراپسٹ کے ذریعے کوئی مریض شفاء پاتا ہے تو اس کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔ فزیو تھیراپسٹ #بیمار کے ساتھ ساتھ #صحت مند کو بھی فٹ رکھنے کی ورزش کراتا ہے۔
مضامین (Subject): #ڈگری کورسیس کے لیے چار سال کی مدت میں یہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔جیسے
 Exercise Therapy, #Orthopedics and Sports #Physiotherapy, Neuro# Physiotherapy, #Community based #Rehabilitation, Anatomy etc.
کورسیس: اس میں  #ڈپلومہ ،ڈگری، پوسٹ #گریجویٹ اور پی ایچ ڈی بھی کیا جا سکتا ہے۔

Diploma in Physiotherapy (DPT) :

ڈپلومہ کے لیے شعبہ #سائنس سے بارہویں کامیاب طلبہ اس میں داخلہ لیے سکتے ہیں۔اس کی مدت دو #سال کی ہے۔ دو سال میں امیدوار اپنا ڈپلومہ مکمل کر لیتے ہیں۔جہاں تک #فیس کی بات ہے تو مختلف اداراوں میں الگ الگ فیس ہوتی ہے ۔تقریبا چالیس سے ستر ہزار کے درمیان ہے۔#گورنمنٹ #کالج میں اس سے کم ہی رہتی ہے۔
 Bechlor in Physiotherapy)      ( BPT)) : یہ ایک بیچلر ڈگری کورس ہے۔اس کے لیے بھی بارہویں سائنس کامیاب ہونا ضروری ہے ۔
 
ا س کے لیے انہیں(CET)  کے داخلہ امتحان کے مرحلے سے گزرنا ہو گا۔ کچھ کالج کا اپنا خود کا انٹرنس امتحان لیتے ہیں تو کچھ پرائیویٹ کالج براہ راست داخلہ دیتے ہیں۔ فیس تقریباً ساٹھ سے اسی ہزار کے درمیان ہوتی ہے۔اگرگورنمنٹ کالج میں داخلہ ہوتا ہے تو اس کے نارمس کے مطابق فیس ہوتی ہے جو کہ پرائیویٹ اداوروں سے کم ہی ہوتی ہے۔ یہ کورس ساڑھے چار سال کا ہے۔ جس میں چھ (۶) ماہ کی انٹر شپ بھی شامل ہے۔
 پوسٹ گریجویٹ: بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد چاہے تو جاب کر سکتے ہیں خود کاکلینک کھول سکتے ہیں چاہے تو #پوسٹ گریجویٹ بھی کر سکتے ہیں۔اس کی مدت دو سال کی ہے۔ پوسٹ گریجویٹ کرنے کے بعد پی ایچ ڈی بھی کر سکتے ہیں۔جس سے امیدوار کا اسٹیٹس بھی بڑھ جاتا ہے ،کرئیر اور بھی زیادہ محفوظ ہو جاتا ہے۔روزگار کے مواقع اور زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
 
روزگار کے مواقع : اگر روزگار کے متعلق سوچیں تو گورنمنٹ اسپتال، پرائیویٹ #اسپتالوں میں، نرسنگ ہوم میں روز گار حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تقریبا سبھی اسپتالوں میں فزیو تھیراپسٹ کا سینٹر ہوتا ہے ۔جہاں فزیو تھراپی ٹرینر کی ضرورت رہتی ہے۔ مختلف اسپورٹس جیسے کہ کرکٹ، فٹبال و دیگر کھیلوں میں کھلاڑیوں کو ہمیشہ چاک و چوبند رکھنے کے لیے فزیوتھیراپسٹ کی مانگ بہت بڑھتی جا رہی ہے ۔فزیوتھیراپسٹ کھلاڑیوں کو مختلف قسم کی ورزش بتاتے ہیں۔
اس لیے ہر ٹیم کا اپنا فزیو تھیراپسٹ ہوتا ہے۔ مختلف ہیلتھ کلب،جم خانہ، اسپتال میں بھی ملازمت کے مواقع ہیں۔ انڈین آرمی میں بھی فزیو تھراپسٹ اپنی خدمات دے سکتے ہیں۔ لیکچرار کے طور پر روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ریسرچر کے طور پر ملازمت کرسکتے ہیں۔
اگر ملازمت نہیں کرنا چاہتے ہیں تو اپنی ذاتی پریکٹس بھی کر سکتے ہیں جس کے لیے تجربہ حاصل کرنے کے بعد خود کا ہیلتھ سینٹر یا کلینک کھول سکتے ہیں۔ اسپورٹس تھیراپسٹ کی تو زبردست مقبولیت کی سبب انہیں کئی بار بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے۔ بیرون ممالک میں بھی روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ 
 
اہم تعلیمی ادارے  :  تعلیمی ادارے کی تو ایک طویل فہرست ہے۔لیکن یہاں پر کچھ اہم اداروں کے نام دیے جا رہے ہیں جہاں سے فزیو تھیراپی کا کورس کیا جا سکتا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ کچھ اداوروں کی ویب سائٹ بھی دی جا رہی ہے۔جس سے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
۱)فزیوتھیراپی اسکول اینڈ سینٹر، سیٹھ جی ایس میڈیکل کالج پریل   
۲)اسکول آف فزیو تھیراپی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیشن ممبئی
۳) ٹوپی والا نیشنل میڈکل کالج، ڈاکٹر ایل نائر روڈ ممبئی   
۴) لوک مانیہ تلک میونسپل میڈکل کالج سائن  
۵) ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کالج آف فزیو تھیراپی پمپری پونہ  
 ۶)فزیوتھیراپی اسکول اینڈ سینٹر ناگپور میڈیکل کالج پونہ 
۷) روی شنکرفزیوتھیراپی کالج سونگی وردھا   
۸) پنڈت دین دیال نیشنل انسٹی ٹیوٹ فور پرسن وتھ فزیکل ڈسابییلیٹیس
8) Pandtt Deen Dayayl  Upadhaya National Institute for
 Person with Physical Disabilities
9) National Institute for Locomotor Disabilities.   
10) Swami Vibekanand National Institute of Rehabilitation Training & Research (SVNIRTAR)   
11) Christian Medical College Vellore. 
12) Shri Ramachandra Institue of Higher Education & Researchttp 

متعلقہ خبریں

Back to top button