جرائم و حادثات

’پرینک ‘ ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر اپ لوڈ کرکے کروڑوں روپے کمانے والے گروہ کاپردہ فاش

فحش سائبر پولیس نے 3 یوٹیوبرس کوکیا گرفتار

ممبئی: (اردودنیا.اِن)کرائم برانچ کی سائبر پولیس نے یوٹیوب چلانے والے 3 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ ملزمین ’پرینک ‘(مذاق)کے نام پر فحش ویڈیوز بناکریوٹیوب پر اپلوڈ کرکے سوشل میڈیا کے ذریعہ کروڑوں روپے کماتے تھے۔ گرفتار ملزمان مکیش گپتا (تھانے میں کلاسز چلاتاہے)،

جتندر گپتا (بی ایچ ایم ایس دوسرے سال میں ہے) اور نٹکھٹ عرف شہزادہ کمار (بی ایم ایم دوسرے سال میں ہے)کو کرائم برانچ کے جوائنٹ کمشنر پولیس، ملند بھرمبے نے بتایا کہ یہ افراد ’پرینک‘ کے نام پر فحش ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر اپلوڈ کرتے تھے،

جس سے ان لوگوں نے لاکھوں روپے کمائے ہیں۔ایک طرف لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار گھٹ گیا، جس کی وجہ سے بہت سی ملازمتیں ختم ہوگئیں۔ وہیں ان ملزمان نے فحش ویڈیوز کو یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کرنا شروع کیا اور لاک ڈاؤن کے دور میں انھوں نے تقریبا 2 کروڑ روپے کمائے ۔

ملند بھر نے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات میں دو کروڑ سامنے آچکے ہیں لیکن یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس کو صرف اتنا پتہ چلا کہ ان کی ایک ویڈیو 2000 سے3000روپے میں بنتی تھی اور اس ویڈیو کے ذریعہ یہ لوگ 50 ہزار تک کماتے تھے۔یہ گروہ اداکاری کے نام پر لڑکیوں کو بلاتے تھے اور اداکاری کے لئے انہیں 500 سے 1500 روپے دیتے تھے۔ اس کے بعد یہ لوگ عوامی مقامات جیسے بینڈ اسٹینڈ، راک گارڈن، کارٹر روڈ، اور بی ایم سی کے بہت سے دوسرے گراؤنڈ میں فحش ویڈیوز بناتے تھے۔

جہاں اس ویڈیو کو شوٹ کیا جاتا تھا اور پھر یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا جاتا تھا۔

تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ان ویڈیوز پر انہیں لاکھوں ناظرین ملتے تھے، جس کی وجہ سے ان لوگوں نے کروڑوں روپے کمائے ہیں، گرفتار ملزم مکیش گپتا تھانے ضلع میں کلاس چلا تا ہے۔ وہ 2008 میں کلاس 10 میں ضلع تھانہ کا ٹاپربھی تھا۔

تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کے پاس پڑھنے والے بچوںکوبھی ویڈیو میں اس نے استعمال کیا جوکہ نابالغ ہیں۔ایک ملزم نے بتایاکہ ایک مینیجر کی خدمات بھی حاصل کررکھی ہے جو فلم لائن سے وابستہ لوگوں سے اداکارمنگواتا تھا اور پھر اسے پورا کردار بتاتا تھا۔

پھر لڑکی کو فحش ویڈیوز بنانے کے لئے تیار کیا جاتا تھا۔

ان کا ایک ویڈیو زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 منٹ تک ہوتا تھا۔پولیس کو اب تک ایسے 17 یوٹیوب چینلز کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں،ان لوگوں نے 300 سے زیادہ ویڈیو اپ لوڈ کی ہیں۔ پولیس نے ایسے فحش چینلز کو روکنے کے لئے یوٹیوب کو لکھا ہے اور معاملے کی چھان بین کر رہی ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button