2008 مالیگاؤں بم دھماکہ: پرگیہ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمان بری
استغاثہ ان کے خلاف قابل اعتبار اور ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
مبئی، 31 جولائی (اردو دنیا نیوز)خصوصی این آئی اے عدالت نے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں سابق بی جے پی رکن پارلیمان سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرسادی پروہت اور دیگر پانچ ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ ان کے خلاف قابل اعتبار اور ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
خصوصی جج اے کے لاہوتی نے اپنے فیصلے میں کہا: "استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد تضادات سے بھرپور اور ناقابل اعتبار ہیں، اس لیے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔”
پرگیہ ٹھاکر پر الزامات اور عدالت کی رائے
استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ دھماکے میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل پرگیہ ٹھاکر کی تھی۔ تاہم عدالت نے کہا کہ فرانزک ماہرین موٹر سائیکل کے چیسیس نمبر کو مکمل طور پر نہیں پڑھ سکے، اس لیے یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ وہ گاڑی پرگیہ کی تھی۔ عدالت نے مزید کہا کہ پرگیہ ٹھاکر دو سال قبل ہی سنیاس لے چکی تھیں اور دنیاوی تعلقات ترک کر چکی تھیں۔
لیفٹیننٹ کرنل پروہت پر الزامات
پروہت پر الزام تھا کہ انہوں نے کشمیر سے آر ڈی ایکس حاصل کیا اور بم بنانے میں مدد کی۔ عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ابھینو بھارت تنظیم سے مالی لین دین ذاتی نوعیت کا تھا، جسے پروہت نے گھر بنانے اور انشورنس پالیسی میں لگایا، نہ کہ کسی دہشت گردانہ سرگرمی میں۔
عدالت نے استغاثہ کے اس دعوے کو بھی خارج کر دیا کہ ساتوں ملزمان کے درمیان کوئی سازش طے پائی تھی۔ عدالت نے کہا کہ سازش ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ سطح کے شواہد دستیاب نہیں تھے۔
عدالت نے واضح کیا کہ دھماکے میں 6 افراد کی موت اور 95 کے زخمی ہونے کے شواہد قابل قبول ہیں۔ چند میڈیکل سرٹیفکیٹ جھوٹے پائے گئے، اس لیے 101 زخمیوں کا دعویٰ ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ عدالت نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے فی کس معاوضہ دینے کا حکم دیا۔
یہ دھماکہ 29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے ضلع ناسک کے مالیگاؤں علاقے میں ایک مسلم اکثریتی علاقے کے چوراہے پر اس وقت ہوا جب رمضان کا مہینہ جاری تھا۔ دھماکہ ایک موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا تھا، جس میں 6 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔
ابتدائی تحقیقات مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کی تھیں، بعد میں 2010 میں کیس نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کو منتقل ہوا۔ 2016 میں NIA نے ضمنی چارج شیٹ دائر کرتے ہوئے بعض ملزمان، بشمول پرگیہ ٹھاکر، کے خلاف ثبوت ناکافی قرار دیے تھے، مگر خصوصی عدالت نے 2017 میں سات ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔
عدالتی کارروائی کی تفصیل
-
مقدمے میں 323 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے
-
34 گواہ منحرف ہو گئے
-
30 سے زائد گواہان کی گواہی سے پہلے ہی وفات ہو چکی تھی
-
ایک ملزم سدھاکر دویدی نے دعویٰ کیا کہ دھماکہ ہوا ہی نہیں تھا، جس کے بعد 100 سے زائد متاثرین کے بیانات لیے گئے
-
حتمی دلائل اپریل 2024 میں مکمل ہوئے تھے
وکلاء کی ٹیم
-
NIA کی نمائندگی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اویناش رسال نے کی
-
پرگیہ ٹھاکر اور اجے رہیرکر کی نمائندگی ایڈووکیٹ جے پی مشرا نے کی
-
لیفٹیننٹ کرنل پروہت کے وکیل ایڈووکیٹ پھاڈکے اور بابر تھے
-
دیگر ملزمان کی نمائندگی ایڈووکیٹس پسبولا، دیویا سنگھ، سوانند سبلے، پرناف گولے، رنجیت سانگل، چیتنیا کلکرنی اور دیگر نے کی۔
متاثرین کے اہل خانہ کے وکیلوں نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اور آزادانہ طور پر اپیل دائر کریں گے۔
مالیگاؤں بم بلاسٹ میں متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہ ملنے پر جمعی علماء ہند کا ردعمل
نئی دہلی: 31 جولائی 2025جمعی علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے سلسلے میں این آئی اے عدالت کی جانب سے ملزمین کو بری کیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کی تفتیشی ایجنسیوں کی ایک اور شرمناک ناکامی کا مظہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان ایجنسیوں کو اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ وہ دہشت گردی جیسے نازک اور حساس معاملات میں سچائی تک پہنچ کر اصل مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور مظلوم و متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں، لیکن افسوس کہ ان کا کردار مسلسل گمراہ کن ثابت ہوا ہے۔
ناظم عمومی جمعی علماء ہند نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی ہائی پروفائل کیس میں ایسا نتیجہ سامنے آیا ہے، بلکہ ماضی میں بھی بیس بیس سالوں تک بے قصور افراد کو جیلوں میں رہنا پڑا، بعد ازاں وہ باعزت بری ہوئے، مگر سالہا سال گزر جانے کے باوجود اصل مجرموں تک کبھی رسائی نہ ہوپائی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملک کی سب سے بڑی اور بااختیار تفتیشی ایجنسیاں بار بار ناکام ہو رہی ہیں، تو ایسی ایجنسیوں کو قائم رکھنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز باقی نہیں رہتا کہ ان پر عوامی سرمایہ ضائع کیا جائے۔ بہتر یہ ہوگا کہ یا تو ان اداروں کو تحلیل کر دیا جائے یا ان کا ازسرِنو سخت احتساب کر کے اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ انصاف کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور عدلیہ اس سنگین مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں، تفتیشی ایجنسیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر سخت کارروائی کی جائے، اور ان افسران کو سزا دی جائے جن کی غفلت، تعصب یا بدنیتی کی وجہ سے اصل مجرم آزاد گھومتے رہے اور بے گناہ افراد کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔ نیز ان متاثرین کی بازآبادکاری کے لیے معقول معاوضہ کا فوری انتظام کیا جائے۔
ناظم عمومی جمعی علماء ہند نے ہمیں یہ سانحہ آج بھی یاد ہے، جس دن مالیگاؤں بم دھماکہ ہوا تھا وہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تھا، میں خود وہاں پہنچا تھا اور عید کے دن مولانا محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم صدر جمعی علماء ہند بھی بنفسِ نفیس مالیگاؤں گئے تھے تاکہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کی جا سکے، عین عید کے دن وہاں ہر طرف غم و اندوہ کا ماحول تھا۔ایسے وقت میں لوگوں کو مایوسی سے نکالنا ہماری ذمہ داری تھی، لیکن موجودہ فیصلے سے ایک بار پھر ان کا زخم تازہ ہوگیا ہے۔



