
لندن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مالی میں فوجیوں کے ذریعہ عوامی رہنماؤں کو حراست میں لینے کے بعد عبوری صدر باہ نداو اور وزیر اعظم مختار وان کے ‘اغوا‘ کی یورپی یونین نے مذمت کی ہے۔مالی کے فوجی عہدیداروں نے صدر باہ نداو اور وزیر اعظم مختار وان کو پیر کے روز گرفتار کرلیا۔ عالمی برادری نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیر دفاع سلیمان دوکور کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ان رہنماوں کو گرفتار کرنے کے بعد مالی کے دارالحکومت بماکو کے قریب واقع فوجی اڈے کاٹی لے جایا گیا ہے۔یہ گرفتاریاں کابینہ میں رد و بدل میں فوجی جنتا کے دو اراکین کے اپنے عہدوں سے محروم ہوجانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہوئیں۔اقوام متحدہ، افریقی یونین اور مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی کمیونٹی (ای سی او ڈبلیو اے ایس) نے اس کارروائی کی مذمت اور رہنماوں کو فوراً رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔
یورپی یونین، امریکا اور برطانیہ نے بھی اس ممکنہ بغاوت کی نکتہ چینی کی ہے۔ یورپی یونین نے اس اقدام کو’اغوا‘ قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے کہا کہ انہیں نداو اور وان کی گرفتاری پر انتہائی تشویش ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہاکہ میں امن و سکون اور ان کی غیر مشروط رہائی کی اپیل کرتا ہوں۔
یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے برسلز میں یورپی یونین سربراہی کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ انتہائی غلط اور سنگین ہے اور ہم اس کے خلاف ضروری اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اگست میں مالی کی فوج نے صدر ابراہیم بوبکر کیتا کو معزول کردیا تھا جس کے بعد انہیں مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ ستمبر میں نداو کی قیادت میں ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی۔عبوری حکومت اٹھارہ ماہ کے لیے بنائی گئی تھی اور اسے ملک میں اصلاحات نافذ کرنے اور انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔



