ووٹر ہراسانی کا الزام، ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن کو پانچواں خط
“دستاویزات کے باوجود ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں، یہ جمہوری حقوق پر حملہ ہے۔”
کولکتہ 12/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو خط لکھتے ہوئے ووٹروں کو ہراساں کیے جانے اور انتخابی قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں پر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔ جاری خصوصی نظرثانی عمل (SIR) کے دوران یہ وزیر اعلیٰ کا پانچواں خط ہے، جس میں انہوں نے متعدد سنگین خدشات کی نشاندہی کی ہے۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بتایا کہ اس سے قبل بھی وہ اس معاملے پر مسلسل خطوط کے ذریعے کمیشن کو آگاہ کرتی رہی ہیں۔ تازہ خط میں انہوں نے کہا کہ ووٹر اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے تمام ضروری دستاویزات جمع کرا رہے ہیں، اس کے باوجود کئی معاملات میں نہ تو مناسب رسیدیں دی جا رہی ہیں اور نہ ہی کاغذات کی باقاعدہ اندراجی تصدیق ہو رہی ہے۔ بعد ازاں انہی دستاویزات کو “نہیں ملا” یا “ریکارڈ پر نہیں” کہہ کر مسترد کیا جا رہا ہے۔
ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا رہے ہیں، جو براہِ راست شہریوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک کو فوری طور پر روکا جائے اور شفاف طریقۂ کار اپنایا جائے۔
خط میں وزیر اعلیٰ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ والدین اور بچوں کی عمروں میں معمولی فرق کی بنیاد پر سماعت کے نوٹس جاری کر کے لوگوں کو کیوں پریشان کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی ووٹرز برسوں سے رجسٹرڈ ہیں اور پرانی ووٹر فہرستوں میں ان کے نام موجود ہیں، اس کے باوجود غیر ضروری سماعتیں مقرر کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن گزشتہ دو دہائیوں میں کی گئی اپنی ہی اصلاحات کو نظر انداز کر رہا ہے اور ایک کے بعد دوسرے شہری کو بلا کر بلا وجہ دباؤ میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دستاویزات کی موجودگی کے باوجود لوگوں کو ہراساں کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے اور کمیشن کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔
ممتا بنرجی نے گیانیش کمار سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے اس پورے عمل کا جائزہ لیں، تاکہ کسی بھی اہل ووٹر کو اس کے حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جا سکے۔



