
آم آدمی (میانگو میان) ’’پدماشری‘‘ حاجی کلیم اللہ خان نے بنایا آم کی کاشت کا عالمی ریکارڈ
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حاجی کلیم اللہ خان کو آم کی دنیا میں تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ آم کے نمائشوں سے متعدد ایوارڈز ملنے کے بعد ،ریاست اتر پردیش،ضلع لکھنئو ،ملیحہ آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی (میا نگو میان)‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم کی کاشت کے ذریعہ عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
اس کارنامے پر انہیں حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔ کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اْگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے آبائ باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے۔ وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔
اور یوں بالآخر تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا ۔ پچھلے سال آم کی دو مزید اقسام کی گرافٹنگ کی اور انھیں ڈاکٹر آم اور پولیس آم کا نام دیا ہے۔ کورونا وائرس بحران میں پولیس اور طبی عملے کے ذریعہ دی جارہی خدمات کے اعتراف میں انھوں نے یہ نام دئے۔
حاجی کلیم اللہ خان نے آم کی ایک نئی قسم کی گرافٹ لگائی تھی ، جسے انھوں نے کچھ سال قبل دنیا کے لیجنڈ بلے باز سچن تندولکر کے نام سے منسوب کیا تھا۔ گرافٹنگ کے ماہر اور پدمشری باغبانی حاجی کلیم اللہ خان نے امرود کی ایک میٹھی قسم تیار کی ہے اور اس کا نام بالی ووڈ اداکارہ ایشوریا رائے کے نام پر رکھا ہے۔ امرود کی نئی اقسام ساخت میں ایک سیب سے مشابہت رکھتی ہے اور زیادہ خوشبودار و لذیذ ہوتی ہے اور اس میں گودا زیادہ ہوتا ہے۔



