منی پور میں حالات ہنوز کشیدہ شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم، نوہزار سے زائد شہری محفوظ مقامات پر منتقل
تشدد کے بعد آرمی کا فلیگ مارچ، 8 اضلاع میں کرفیو، موبائل سروس ٹھپ
امفال،نئی دہلی ، 4 مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) منی پور Manipur میں تشدد کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سخت قدم اٹھایا ہے۔ تازہ اپڈیٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جانکاری کے مطابق منی پور حکومت نے جمعرات کو قبائلیوں اور میتیئی طبقہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو روکنے کے لیے انتہائی سنگین معاملوں میں شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کیا ہے۔ گورنر کی طرف سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ جب سمجھانا بجھانا، تنبیہ کرنا اور مناسب طاقت کے استعمال کی حد پار ہو گئی ہو اور حالات کو قابو نہیں کیا جا سکے، تو دیکھتے ہی گولی مارنے کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ نوٹیفکیشن پر ریاستی حکومت کے کمشنر (داخلہ) کا دستخط موجود ہے۔
دراصل منی پور میں بدھ کے روز پیش آئے تشدد کے بعد حالات کو سنبھالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن کشیدگی ہنوز برقرار ہے۔ ہندوستانی فوج اور آسام رائفلز کے جوانوں نے تشدد زدہ علاقوں سے اب تک 9000 سے زائد شہریوں کو ریسکیو کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے رات بھر ریسکیو آپریشن چلایا گیا اور یہ عمل صبح کو بھی جاری رہا۔ تشدد متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو فوج اور آسام رائفلز کے ذریعہ ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔اس درمیان کانگریس نے منی پور میں پیدا خراب حالات کے لیے بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’’منی پور جل رہا ہے۔ بی جے پی نے برادریوں میں شگاف پیدا کیا ہے اور ایک خوبصورت ریاست میں موجود امن کو پوری طرح ختم کر دیا ہے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ بھاجپا کی نفرت و تقسیم کی سیاست اور اقتدار کا لالچ اس خراب حالت کے لیے ذمہ دار ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں کھڑگے نے عوام سے گزارش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو بحال ہونے کا موقع دیں۔کانگریس جنرل سکریٹری اور سرکردہ لیڈر جئے رام رمیش نے منی پور میں تشدد واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ڈبل انجن حکومت کی یہ حقیقت ہے: ریاست کو آگ لگا دو، مرکز میں خاموش رہو۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ بی جے پی کے ذریعہ حکومت تشکیل کے 15 ماہ سے بھی کم عرصے میں پوری ریاست منی پور میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ لیکن مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور پی ایم مودی کرناٹک میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ ریاست میں کشیدگی پر قابو پانے کے لیے 8 اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور پانچ دنوں کے لیے پوری ریاست میں انٹرنیٹ خدمات بند کرنے کا اعلان ہو چکا ہے۔ کئی اضلاع میں دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی۔ کچھ علاقوں میں حالات قابو میں ہیں، لیکن لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔
تشدد کے بعد آرمی کا فلیگ مارچ، 8 اضلاع میں کرفیو، موبائل سروس ٹھپ
درج فہرست قبائل کے درجے پر عدالتی حکم کے حوالہ سے قبائلی گروپوں کے احتجاج کے درمیان فوج نے آج منی پور تشدد زدہ علاقوں میں فلیگ مارچ کیا۔ امپھال، چراچاندپور اور کانگاپوکی میں تشدد بھڑکنے کے بعد گزشتہ رات منی پور کے 8 اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔منی پور حکومت نے ریاست میں اگلے پانچ دنوں کے لیے موبائل انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے فوج اور آسام رائفلز کو طلب کیا گیا ہے۔ صورت حال کو قابو میں کرنے کے لیے فوج اور آسام رائفلز کی جانب سے آج فلیگ مارچ کیا گیا۔ تشدد کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں تقریباً 4 ہزار لوگوں کو فوج کے کیمپوں اور سرکاری دفاتر کے احاطوں میں پناہ دی گئی تھی۔
یہ تشدد’آدیواسی ایکتا مارچ‘ کے دوران بھڑک اٹھا تھا جس میں طلباء کی ایک تنظیم نے ماتئی کمیونٹی کو شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) زمرہ میں شامل کرنے کے مطالبے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین آف منی پور (اے ٹی ایس یو ایم) نے کہا کہ ماتئی برادری کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جس کے خلاف اس نے مارچ کی کال دی ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ریلی میں ہزاروں مشتعل افراد نے حصہ لیا اور توربنگ کے علاقے میں قبائلیوں اور غیر قبائلیوں کے درمیان تشدد کی اطلاعات ہیں۔ افسر نے بتایا کہ پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔
انہوں نے کہا کہ حالات کشیدہ ہیں، لیکن بہت سے مشتعل افراد نے پہاڑیوں کے مختلف حصوں میں گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔پولیس نے کہا کہ صورتحال کے پیش نظر غیر قبائلی غلبہ والے امپھال ویسٹ، کاکچنگ، تھوبال، جیریبام اور بشنو پور اضلاع اور قبائلی اکثریت والے چوراچند پور، کانگپوکپی اور ٹینگنوپال اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ریاست بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فوری طور پر پانچ دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، لیکن براڈ بینڈ سروس ورکنگ میںہے ۔



